بِسْمؔ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ وسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی امابعد واضح ہو کہ ان چند اوراق میں ان بعض اولیاء اور مجاذیب کی شہادتیں درج ہیں جنہوں نے ایک زمانہ دراز اس عاجز سے پہلے اس عاجز کی نسبت خبر دی ہے منجملہ ان کے ایک مجذوب گلاب شاہ نام کی پیشگوئی ہے جو ہمارے اس زمانہ سے تیس یا اکتیس برس پہلے اس عالم گذران سے گذر چکا ہے اور اگرچہ یہ پیشگوئی ازالہ اوہام کے صفحہ ۷۰۷ میں مجمل طور پر شائع ہوچکی ہے لیکن اب کی دفعہ صاحب بیان کنندہ نے تمام جزئیات کو خوب یاد کر کے بہ تفصیل تمام اس پیشگوئی کو بیان کیا ہے اور چاہا ہے کہ الگ طور پر وہ پیشگوئی ایک اشتہار میں شائع کردی جائے۔ بیان کنندہ یعنے میاں کریم بخش جس قدر اس پیشگوئی کو نہایت یقین اور ایمانی جوش کے ساتھ بیان کرتا ہے اس کو اگر کوئی طالب حق متوجہ ہو کر سنے تو ممکن نہیں کہ اس کا ایک کامل اور عجیب اثر اسکے دل پر پیدا نہ ہو۔ میں نے میاں کریم بخش کو اب ماہ مئی ۱۸۹۲ ؁ء میں دوبارہ لدھیانہ میں بلا کر اس پیشگوئی کی اُس سے مکررًاتفتیش کی اور کئی مجلسوں میں اس کو قسم دے کر پوچھا گیا کہ اس بارے میں جو یقینی طور پر راست راست بات ہے اور خوب یاد ہے وہی بات بیان کرے ایک ذرہ مشتبہ بات بیان نہ کرے اور یہ بھی کہا گیا کہ اگر ایک سرُِمو کوئی خلاف واقعہ بات