پیش آوے جو ترک عیار سست نظر آوے اور اس کا دشمن بھی خمار میں دکھلائی دے اور ظاہر ہے کہ اس زمانہ میں بجز اس عاجز کے کسی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تا اسکے دعویٰ کے بعد ایک ناقص الفہم اس عاجز کو ترک قرار دے پس اس شعر کے صحیح معنے یہ ہیں کہ اس مسیح کے ظہور کے بعد ترکی سلطنت کچھ سست ہوجاوے گی اور سلطنت کا مخالف بھی یعنی روس فتح یابی کا کچھ اچھا پھل نہیں دیکھے گا اور آخرکار فتح کا سرور جاتا رہے گا اور خمار رہ جائے گا اور نیز یہ شعر یعنی مہدئ وقت و عیسٰی ؑ دوراں صاف دلالت کرتا ہے کہ وہی مہدی موعود مسیح موعود بھی ہوگا۔ حالانکہ سید احمد صاحب نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میں مسیح موعود بھی ہوں۔ اور حدیثوں کی رو سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مہدی کے ظہور کے وقت ترکی سلطنت کچھ ضعیف ہوجائے گی اور عرب کے بعض حصوں میں نئی سلطنت کے لئے کچھ تدبیریں کرتے ہوں گے اور ترکی سلطنت کو چھوڑنے کیلئے تیار ہوں گے سو یہ علامات مہدی موعود اور مسیح موعود کی ہیں جس نے سوچنا ہو سوچے۔ محمد جعفر صاحب کی سمجھ پر تعجب ہے کہ انہوں نے اس مصرعہ پر بھی غور نہیں کی کہ پسرش یادگارمے بینم۔ یہ پیشگوئی سید احمد صاحب پر کیونکر صادق آسکتی ہے۔ اگر آج یعنی ۲۷؍ جنوری ۹۶ء کو زندہ ہو کر آجائیں تو ایک سو بارہ برس کے ہوں گے تو کیا اس عمر میں جو رو کریں گے اور لڑکا پیدا ہوگا۔ پھر ماسوا اسکے یہ لڑکا پیدا ہونا اور جو رو کرنا مسیح موعود کی بہت حدیثوں میں لکھا ہے اور اسکے مطابق نعمت اللہ صاحب کا الہام ہے کیونکہ مسیح موعود کی بہت حدیثوں میں ہے کہ یَتَزَوَّجُ وَیُوْلَدُ لَہٗ۔ لیکن سید صاحب نے تو کبھی مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ پس وہ کیونکر اس پیشگوئی کے مصداق ہوسکتے ہیں اور یہ بھی یاد رہے کہ مصرعہ ترک عیار میں لفظ عیار کا محل ذم میں نہیں ہے بلکہ یہ لفظ فارسیوں کے استعمال میں محل مدح میں آتا ہے۔ حافظ فرماتے ہیں
خیال زلف تو پختننہ کار خامان ست
کہ زیر سلسلہ رفتن طریق عیاری ست
منہ