تاچہل سال اے برادرِ من
دورِ آں شہسوار مے بینم
عاصیاں از امام معصومم
خجل و شرمسار مے بینم
غازی دوستدار دشمن کش
ہمدم و یار غار مے بینم
زینتِ شرع و رونقِ اسلام
محکم و استوار مے بینم
گنجؔ کسریٰ و نقد اسکندر
ہمہ بر روئے کارمے بینم
بعد ازان خود امام خواہد بود
بس جہان را مدار مے بینم
اح م و دال مے خوانم
نام آں نامدار مے بینم
دین و دنیا از و شود معمور
خلق زو بختیار مے بینم
مہدی وقت و عیسٰی ؑ دوراں
ہر دو را شہسوار مے بینم
ایں جہاں راچو مصرمے نگرم
عدل او را حصارمے بینم
ہفت باشد و زیر سلطانم
ہمہ را کامگار مے بینم
برکف دست ساقی وحدت
بادۂ خوشگوار مے بینم
تیغ آہن دلاں زنگ زدہ
کند و بے اعتبار مے بینم
گرگ با میش شیر با آہو
در چرا باقرار مے بینم
* ترک عیار سُست مے نگرم
خصم اُو درخمارمے بینم
نعمت اللہ نشست برکنجے
از ہمہ برکنارمے بینم
* اس جگہ منشی محمد جعفر صاحب اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ شعر یعنی ترک عیار گویا اس عاجز کی تکذیب کی نسبت پیشگوئی ہے۔ لیکن ایک عقل مند جو انصاف اور تدبر سے کچھ حصہ رکھتا ہو وہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ شعر اس قصیدہ کے مضامین کا ایک آخری مضمون ہے اور قصیدہ کی ترتیب سے یہ ببداہت معلوم ہوتا ہے کہ اول مسیح موعود کا ظہور ہو اور پھر اسکے بعدکوئی ایسا واقعہ