مرزؔ ا صاحب
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ * ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نحمدہ ٗونصلی علیٰ رسولہ الکریم
حضرت مولوی صاحب۔ آپ پھرسہ کر رشکوہ کے طور پر تحریر فرماتے ہیں کہ میرے سوال کا اب بھی جواب صاف الفاظ میں نہیں دیا اور آپ فرماتے ہیں کہ ’’صاف الفاظ میں کہنا چاہئے کہ صحیحین کی جملہ احادیث بلاوقفہ و نظر واجب التسلیم اور صحیح نہیں بلکہ ان میں موضوع یا غیر صحیح احادیث موجود ہیں یا ان کے موجود ہونے کا احتمال ہے اور آپ اس بات کا جواب مجھ سے مانگتے ہیں کہ صحیحین کی حدیثیں سب کی سب صحیح ہیں یا موضوع ہیں یا مختلط ہیں‘‘۔ فقط
اماالجواب پس واضح ہو کہ احادیث کے دو حصہ ہیں ایک وہ حصہ جو سلسلہ تعامل کی پناہ میں کامل طور پر آگیا ہے۔ یعنی وہ حدیثیں جن کو تعامل کے محکم اور قوی اور لاریب سلسلہ نے قوت دی ہے اور مرتبہ یقین تک پہنچا دیا ہے۔ جس میں تمام ضروریات دین اور عبادات اور عقود اور معاملات اور احکام شرع متین داخل ہیں۔ سو ایسی حدیثیں تو بلاشبہ یقین اور کامل ثبوت کی حد تک پہنچ گئے ہیں اور جو کچھ ان حدیثوں کو قوت حاصل ہے وہ قوت فن حدیث کے ذریعہ سے حاصل نہیں ہوئی اور نہ وہ احادیث منقولہ کی ذاتی قوت ہے اور نہ وہ راویوں کے و ثاقت اور اعتبار کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے بلکہ وہ قوت ببرکت و طفیل سلسلہ تعامل پیدا ہوئی ہے۔ سو میں ایسی حدیثوں کو جہاں تک ان کو سلسلۂ تعامل سے قوت ملی ہے ایک مرتبہ یقین تک تسلیم کرتا ہوں لیکن دوسرا حصہ حدیثوں کا جن کو سلسلۂ تعامل سے کچھ تعلق اور رشتہ نہیں ہے اور صرف راویوں کے سہارے سے اور ان کی راست گوئی کے اعتبار پر قبول کی گئی ہیں ان کو میں مرتبہ ظن سے بڑھ کر خیال نہیں کرتا اور غایت کار مفید ظن ہوسکتی ہیں کیونکہ جس طریق سے وہ حاصل کی گئی ہیں۔ وہ یقینی اور قطعی الثبوت طریق نہیں ہے بلکہ بہت سی آویزش کی جگہ ہے۔ وجہ یہ کہ ان حدیثوں کا فی الواقع صحیح اور راست ہونا تمام راویوں کی صداقت اور نیک چلنی اور سلامت فہم اور سلامت حافظہ اور تقویٰ و طہارت وغیرہ شرائط پر موقوف ہے۔ اور ان تمام امور کا کماحقہ اطمینان کے موافق فیصلہ ہونا اور کامل درجہ کے ثبوت پر جو حکم رویت کا رکھتا ہے پہنچنا حکم محال کا رکھتا ہے اور کسی کو طاقت نہیں کہ ایسی حدیثوں کی نسبت ایسا ثبوت کامل پیش کرسکے۔ کیا آپ ایسی کسی حدیث کی نسبت حلفاًبیان کرسکتے ہیں کہ اس کے مضمون کی صحت کی نسبت کامل اطمینان اور سکینت مجھ کو حاصل ہے؟ اگر آپ حلف اُٹھانے پر مستعد بھی ہوں تاہم میں خیال کروں گا کہ آپ ایک پرانے خیال اور عادت سے متاثر ہو کر ایسی جرأت کرنے پر آمادہ ہوگئے ہیں ورنہ آپ کو بصیرت کی راہ سے ہرگز قدرت نہیں ہوگی کہ کسی ایسی حدیث کے لفظ لفظ کی صحت قطعی اور یقینی کی نسبت دلائل شافیہ جو غیر قوم کے لوگ بھی سمجھ سکیں پیش کرسکیں۔ سو چونکہ واقعی صورت یہی ہے کہ جس قدر حدیثیں تعامل کے سلسلہ سے فیض یاب ہیں۔