صاؔ ف ثابت ہے کہ میں نے ان اقوال کو نقل کرنے سے صاحب براہین کو تفرد سے بچانا چاہا تھا نہ یہ جتانا کہ میں بھی ایسے الہاموں کو لائق سند سمجھتا ہوں۔*
آپ کی تحریرات میں بہت سے مطالب زائد اور خارج از بحث ہوتے ہیں جن سے میں عمداً تعرض نہیں کرتا ان سے تعرض اس تفصیلی جواب میں کروں گا جو بعد طے ہونے امور مستفسرہ کے قلم میں لاؤں گا۔ اب میں آپ کو پھر اپنے سوالات سابقہ کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ آپ براہ مہربانی بنظر حفظ اوقات فریقین میرے سوالات کا صاف اور مختصر الفاظ میں جواب دیں اور زائد باتوں کی طرف توجہ نہ کریں میں بنظر آپ کے رفع تکلیف کے پھر اپنے سوال کا خلاصہ بیان کرتا ہوں۔
خلاصہ سوال اول یہ کہ آپ صراحت کے ساتھ کہیں کہ جملہ احادیث صحیحین صحیح اور واجب العمل ہیں یا جملہ غیر صحیح اور موضوع یا مختلط اور اب تک آپ نے کسی حدیث صحیحین کو موضوع یا ضعیف نہیں کہا۔
دوم قرآن کوصحت احادیث کا معیار ٹھہرانے میں جملہ مسلمان آپ کے ساتھ ہیں یا کوئی امام ائمہ سلف سے۔
سوم اجماع کی تعریف اور یہ کہ چند اصحاب کا اتفاق شرعاً اجماع کہلاتا ہے اور حضرت عمر کے ابن صیاد کو دجال کہنے کے وقت جملہ اصحاب موجود تھے یا فلاں فلاں اور اس پر انہوں نے سکوت کیا اور یہ سکوت فلاں فلاں ائمہ حدیث نے نقل کیا۔
چہارم آنحضرت صلعم کے اصحاب آنحضرت کی طرف کوئی حکم یا خیال منسوب نہ کرتے جب تک کہ وہ آپ سے سن نہ لیتے اور آنحضرت صلعم کے وقائع اور قضایا سے کوئی امر استنباط کر کے آنحضرت کی طرف منسوب نہ کرتے جیسے بعض صحابہ سے منقول ہے فیض یا شفعت للجار۱ یا یہ کہ صرف خیال و استنباط سے آنحضرت صلعم کی نسبت فرمادیتے کہ آپ نے ایسا ارشاد کیا ہے۔
پنجم میرے اس منطوق کے ہوتے وہ مفہوم قابل اعتبار ہے جو آپ کے خیال میں ہے و بناءً علیہ میں ابن عربی کا مصدق ہوں اور آپ اس دعویٰ میں صادق ہیں۔
راقم ابو سعید محمد حسین ۲۱؍ جولائی ۹۱ ء
* نوٹ: اہل بصیرت ناظرین یہاں غور کرنے کیلئے تھوڑی دیر توقف کریں۔ اگر حضرت مرزا صاحب اپنے دعویٰ میں متفرد نہیں ہیں تو ان پر الزام ہی کیا آسکتا ہے بہرصورت اس میں تو کلام نہیں کہ مولوی صاحب جہد بلیغ سے حضرت مسیح موعود کو تفرد کے الزام سے بچا چکے ہیں وھذا ھوالمقصود فافھم۔ ایڈیٹر