اسؔ پرسکوت کیا۔ یاوہ قول جس صحابی کوپہنچا اس نے انکار نہ کیا یہ بات صرف ’’غالباً اورہونگی‘‘ کے الفاظ سے ثابت نہیں ہوسکتی ایسے دعاوی عظیمہ میں ائمہ نقل سے نقل بکار ہے نہ صرف تجویز۔ عقل اجماع کے باب میں جوکچھ ائمہ سے منقول ہے وہ آپکی تحریر میں موجود ہے پھر تعجب ہے کہ اس پر آپ کی توجہ نہ ہوئی اور صرف اٹکل سے آپ نے کاربرآری کی۔
(۵) مضمون حدیث شرح السنہ کے متعلق آپ نے بڑے زور سے دعویٰ کیا تھا کہ آنحضرت نے فرمایا ہے کہ میں ابن صیاد کے دجال ہونے سے خوف کرتا ہوں اور ازالۃ الاوہام کے صفحہ ۲۲۴ میں آپ نے لکھا ہے کہ آنحضرت نے حضرت عمر ؓ کو فرمایا ہے کہ ہمیں اس کے حال میں بھی اشتباہ ہے یعنی اس کے دجال ہونے کا ہم کو خوف ہے۔ ان اقوال کا آپ نے آنحضرت صلعم کو یقیناً قائل قرار دیا ہے۔ اب آپ یہ کہتے ہیں کہ صحابی نے آنحضرت سے سنا ہوگا تب ہی آنحضرت کی طرف اس امر کو منسوب کیا کہ آپ ابن صیاد کے دجال ہونے سے ڈرتے تھے۔ اب انصاف کو اور صدق و دیانت کو پیش نظر رکھ کر فرماویں کہ احتمال موجب یقین ہوسکتا ہے؟ کیا یہ امکان نہیں ہے کہ آنحضرت صلعم کے ان معاملات سے جو ابن صیاد کی نسبت بارہا وقوع میں آئے جیسے اس کا امتحان کرنا یا چھپ کر اس کے حالات معلوم کرنا وغیرہ وغیرہ جن کا صحیحین میں ذکر ہے اس صحابی کو یہ خیال پیدا ہوگیا ہوکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کو دجال سمجھتے تھے اس امکان و احتمال کے ساتھ جو حسن ظنی بحق صحابی پر مبنی ہے کیا یہ یقین ہوسکتا ہے؟ کہ اس صحابی نے آنحضرت کو وہ باتیں کہتے ہوئے سنا جو آپ نے برخلاف واقع آنحضرت کی طرف منسوب کیں اور بلا حصول یقین آنحضرت صلعم کو ان اقوال کا قائل قرار دینا اور بلا کھٹکا یہ کہہ دینا کہ آپ ایسا فرماتے تھے جائز ہے؟ اور مسلمانان سلف سے یہ امر وقوع میں آیا ہے آپ کم سے کم ایک مسلمان کا نام بتلاویں جس سے یہ جرات ہوئی ہو۔
(۶) آپ لکھتے ہیں کہ قول ابن عربی کے آپ مخالف ہوتے تو کیوں ناحق اس کا ذکر کرتے اور اسکے ذکر سے آپ کے کلام میں تناقض پیدا ہوتا ہے آپ کا یہ مفہوم میری عبارت کے صریح منطوق کے جو میں نے نقل کی ہے برخلاف ہے لہٰذا لائق لحاظ والتفات نہیں ہے اور وہ آپ کو الزام افترا سے بری نہیں کرسکتا اور نہ میری وہ تصریحات جو میں نے محدث کی نسبت کی ہیں آپ کو اس الزام سے بری کرسکتے ہیں میری کسی تصریح یاکلام میں قول ابن عربی کی تصدیق وتائید پائی نہیں جاتی اور میرا صریح اظہار کہ میں الہام غیر نبی کو حجت نہیں سمجھتا کتاب وسنت کا پیرو ہوں نہ کسی الہامی کشفی کا مقلّد۔ صاف شاہد ہے کہ آپ نے مجھ پر افترا کیا ہے۔ رہاالزام تعارض واظہار خلاف عقیدت سو اسکا جواب اسی صفحہاشاعۃ السنہ میں موجود ہے کہ میں نے ان اقوال ابن عربی وغیرہ کو اس غرض سے نقل کیا ہے کہ الہام کو حجت ماننے میں صاحب براہین منفرد نہیں ہے اور یہ مسئلہ ایسا نیا اور انوکھا نہیں جس کاکوئی قائل نہ ہو جس سے