خلق و عالم جملہ در شور و شراند طالبانت در مقام دیگر اند آن یکے را نورمے بخشی بدل واں دِگر را می گزاری پابگل چشم و گوش و دل زِ توگیرد ضیاء ذات تو سرچشمہء فیض وُ ہدا غرض خداوند قادر وقدوس میری پناہ ہے اور میں تمام کام اپنا اسی کو سونپتا ہوں اور گالیوں کے عوض میں گالیاں دینانہیں چاہتا اور نہ کچھ کہنا چاہتا ہوں ایک ہی ہے جو کہے گا افسوس کہ ان لوگوں نے تھوڑی سی بات کو بہت دور ڈال دیا اور خدائے تعالیٰ کو اس بات پر قادر نہ سمجھا کہ جو چاہے کرے اور جسکو چاہے مامور کرکے بھیجے کیا انسان اس سے لڑ سکتا ہے یا آدم زاد کو اس پر اعتراض کرنے کا حق پہنچتا ہے کہ تونے ایسا کیوں کیا ایسا کیوں نہیں کیا۔ کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ ایک کی قوت اور طبع دوسرے کو عطا کرے اور ایک کا رنگ اور کیفیت دوسرے میں رکھ دیوے اور ایک کے اِسم سے دوسرے کو موسوم کردیوے اگر انسان کو خدائے تعالیٰ کی وسیع قدرت پر ایمان ہوتو وہ بلاتامل ان باتوں کا یہی جواب دے گا کہ ہاں بلاشبہ اللہ جلّ شانہٗ ہریک بات پر قادر ہے اور اپنی باتوں اور اپنی پیشگوئیوں کو جس طرز اور طریق اور جس پیرایہ سے چاہے پورا کرسکتا ہے ناظرین تم آپ ہی سوچ کر دیکھو کہ کیا آنیوالے عیسیٰ کی نسبت کسی جگہ یہ بھی لکھا تھا کہ وہ دراصل وہی بنی اسرائیلی ناصری صاحب انجیل ہوگا بلکہ بخاری میں جو بعد کتاب اللہ اصح الکتاب کہلاتی ہے بجائے ان باتوں کے امامکم منکم لکھا ہے اور حضرت مسیح کی وفات کی شہادت دی ہے جسکی آنکھیں ہیں دیکھے۔ منصفو! سونچ کر جواب دو کہ کیا قرآن کریم میں کہیں یہ بھی لکھا ہے کہ کسی وقت کوئی حقیقی طور پر صلیبوں کو توڑنے والا اور ذمّیوں کو قتل کرنیوالا اور قتل خنزیر کا نیا حکم لانے والا اور قرآن کریم کے بعض احکام کو منسوخ کرنیوالا ظہور کرے گا اور آیت ۱؂ ا ور آیت ۲ ؂ اس وقت منسوخ ہوجائے گی اور نئی وحی قرآنی وحی پر خط نسخ کھینچ دے گی۔ اے لوگو اے مسلمانوں کی ذریّت کہلانے والو دشمن قرآن نہ بنو اور خاتم النبییّن کے بعد وحی نبوت کا نیا سلسلہ جاری نہ کرو اور اُس خدا سے شرم کرو جس کے سامنے حاضر کئے جاؤ گے۔ اور بالآخر میں ناظرین کو مطلع کرنا چاہتا ہوں کہ جن باتوں پر حضرت مولوی نذیر حسین صاحب اور ان کی جماعت نے تکفیر کا فتویٰ دیا ہے اور میرا نام کافر اور دجّال رکھا ہے اور وہ گالیاں دی ہیں کہ کوئی مہذب آدمی غیر قوم کے آدمی کی نسبت بھی پسند نہیں کرتا اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ گویا یہ باتیں میری کتاب توضیح مرام اور ازالہ اوہام میں درج ہیں۔ میں انشاء اللہ القدیر عنقریب ایک مستقل رسالہ