میں ان تمام مقامات معترض علیہا کو لکھ کر منصفین کو دکھلاؤں گا کہ ؔ کیا درحقیقت میں نے اسلام کے عقیدہ سے انحراف کیا ہے یاانہیں کی آنکھوں پر پردہ اور انہیں کے دلوں پر مہریں ہیں کہ باوجود علم کے دعوے کے حقیقت کو شناخت نہیں کرسکتے اور اس پل کی طرح جو یکدفعہ ٹوٹ کر ہر طرف ایک سیلاب پیدا کردے لوگوں کی سدّراہ ہورہے ہیں یاد رکھو کہ آخر یہ لوگ بہت شرمندگی کے ساتھ اپنے منہ بند کرلیں گے اور بڑی ندامت اور ذلت کے ساتھ تکفیر کے جوش سے دستکش ہوکر ایسے ٹھنڈے ہوجائیں گے کہ جیسے کوئی بھڑکتی ہوئی آگ پر پانی ڈال دے لیکن انسان کی تمام قابلیت اور زیر کی اور عقلمندی اس میں ہے کہ سمجھانے سے پہلے سمجھے اور جتلانے سے پہلے بات کو پاجائے اگر سخت مغز خواری کے بعد سمجھا تو کیا سمجھا بہتوں پر عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے کہ وہ کافر بنانے اور گالیاں دینے کے بعد پھر رجوع کریں گے اور بدظنی اور بدگمانی کے بعد پھر حسن ظن پیدا کرلیں گے مگر کہاں وہ پہلی بات اور کہاں یہ ۔
اکنوں ہزار عذر بیاری گناہ را
مرشوی کردہ را نبود زیب دختری
سواے میری پیاری قوم اس وقت کو غنیمت سمجھ یہ تیرا گمان صحیح نہیں ہے کہ اس صدی کے سر پر آسمان و زمین کے خدا نے کوئی مجدّد اپنی طرف سے نہ بھیجا بلکہ کافر اور دجّال بھیجا تازمین میں فساد پھیلائے اے قوم نبی علیہ السلام کی پیشگوئی کا کچھ لحاظ کر اور خدائے تعالیٰ سے ڈر اور نعمت کو ردّ مت کر۔
غافل مشوگر عاقلی در یاب گر صاحبدلی
شاید کہ نتواں یافتن دیگر چنیں ایام را
والسّلامُ علٰی من اتّبع الھدٰی
نوٹ۔ مندرجہ بالا رسالہ ۲۷ دسمبر ۱۸۹۱ ء کو بعد نماز ظہر مسجد کلاں واقعہ قادیان میں ایک جم غفیر کے روبرو مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی نے پڑھ کر سنایا اور بعد اختتام یہ تجویز حاضرین کے روبرو پیش کی گئی کہ انجمن کے ممبر کون کون صاحبان قرار دیئے جائیں اور کس طرح اس کی کارروائی شروع ہو۔ حاضرین نے جنکے نام نامی ذیل میں درج کئے جاتے ہیں جو محض تجویز مذکورہ بالا پرغور کرنے اور مشورہ کرنے کیلئے تشریف لائے تھے بالاتفاق یہ قرار دیاکہ سردست رسالہ مذکور شائع کردیا جائے اور مخالفین کا عندیہ معلوم کرکے بعد ازاں بتراضیء فریقین انجمن کے ممبر مقرر کئے جائیں اور کارروائی شروع کی جائے۔ جواصحاب اس جلسہ میں موجود ہوئے ان کے نام نامی یہ ہیں:۔
منشی محمداروڑاصاحبنقشہ نویس محکمہ مجسٹریٹ کپورتھلہ
منشی محمد خان صاحب اہلمد فوجداری ؍؍
حافظ محمد علی صاحب کپورتھلہ
منشی محمد عبدالرحمن صاحب محرر محکمہ جرنیلی ایضاً
منشی سردار خان صاحب کورٹ دفعدار ؍؍
مرزا خدا بخش صاحب اتالیق نواب مالیر کوٹلہ
منشی محمد حبیب الرحمن رئیس کپور تھلہ ایضاً
منشی امداد علی خان صاحب محرر سرشتۂ تعلیم ؍؍
منشی رستم علی صاحب ڈپٹی انسپکٹر پولیس ریلوے لاہور
منشی ظفر احمد صاحب اپیل نویس ؍؍
مولوی محمد حسین صاحب کپورتھلہ ؍؍
ڈپٹی حاجی سید فتح علی شاہ صاحب ڈپٹی کلکٹر انہار