غلبہ تمہیں کا ہے اگر تم واقعی طور پر مومن ہو۔ اور فرماتا ہے ۱؂ یعنی خدائے تعالیٰ ہرگز کافروں کو مومنوں پر راہ نہیں دے گا۔ سو دیکھو خدائے تعالیٰ نے قرآن کریم میں مقابلہ کے وقت مومنوں کو فتح کی بشارت دے رکھی ہے اور خود ظاہر ہے کہ خدائے تعالیٰ مومن کا ہی حامی اور ناصر ہوتا ؔ ہے مفتری کا ہرگز ناصر اور حامی نہیں ہوسکتا۔ سو جس کا خدائے تعالیٰ آپ دشمن ہو اور جانتا ہے کہ وہ مفتری ہے ایسا نااہل آدمی کیونکر مومن کے مقابل پر ایمان کے علامات خاصہ سے خلعت یاب ہوسکتا ہے بھلا یہ کیونکر ہو کہ جو لوگ خدائے تعالیٰ کے پیارے دوست اور سچے الہامات کے وارث اور نیز مومنین کاملین اور شیخ الکل ہوں وہ تو مقابلہ کے وقت ایمانی نشانوں سے محروم رہ جائیں اور بڑی ذلت کے ساتھ ان کی پردہ دری ہو اور عمداً خدائے تعالیٰ ان کی بزرگی اور نیک نامی کو صدمہ پہنچاوے لیکن وہ جو راندۂدرگاہ الٰہی اور بقول شیخ بٹالوی کتوں کی طرح اور کافر اور دجّال اور بقول میاں نذیر حسین بکلّی ایمان سے بے نصیب اور ملحد اور ہر ایک مخلوق سے بدتر ہو اس میں ایمانی نشان پائے جائیں اور خدائے تعالیٰ عند المقابلہ اسی کو فتح مند اور کامیاب کرے ایسا ہونا تو ہرگز ممکن نہیں۔ ناظرین آپ لوگ ایماناً فرماویں کہ کیا آسمانی اور روحانی تائید مومنوں کیلئے ہوتی ہے یا کافروں کیلئے؟ اس تمام تقریر میں َ میں نے ثابت کردیا ہے کہ حق اور باطل میں کھلا کھلا فرق ظاہر کرنے کیلئے مقابلہ کی ازحد ضرورت ہے ؂ تاسیہ روئے شود ہر کہ دروغش باشد میں نے حضرت شیخ الکل صاحب اور اُن کے شاگردوں کی زبان درازیوں پر بہت صبر کیا اور ستایا گیا اور آپ کو روکتا رہا۔ اب میں مامور ہونے کی وجہ سے اس دعوت اللہ کی طرف شیخ الکل صاحب اور ان کی جماعت کو بلاتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ خدائے تعالیٰ اس نزاع کا آپ فیصلہ کردے گا وہ دلوں کے خیالات کو جانچتا اور سینوں کے حالات کو پرکھتا ہے اور کسی سے دل آزار زیادتی اور جہر بالسّوء پسند نہیں کرتا وہ لاپروا ہے متقی وہی ہے جو اس سے ڈرے اور میری اس میں کیا کسرشان ہے اگر کوئی مجھے کتا کہے یا کافر کافر اور دجّال کرکے پکارے درحقیقت حقیقی طور پر انسان کی کیا عزت ہے صرف اس کے نور کے پرتوہ پڑنے سے عزت حاصل ہوتی ہے اگر وہ مجھ پر راضی نہیں اور میں اس کی نگاہ میں ُ برا ہوں تو پھر کتے کی طرح کیا ہزار درجہ کتوں سے بدتر ہوں ۔ ؂ گرخدا ازبندہۂ خوشنود نیست ہیچ حیوانے چو او مردُود نیست گرسگِ نفسِ دنی را پروریم ازسگانِ کوچہ ہا ہم کم تریم اے خدا اے طالبان را رہنما ایکہ مہر تو حیاتِ روح ما بر رضائے خویش کن انجام ما تا براید در دو عالم کام ما