چھوڑے گا اور نہ اپنی تائید سے دستکش ہوگا بلکہ جیسا کہ اس کے پاک وعدے ہیں وہ ضرور اپنے وقتوں پر نشان تازہ بتازہ دکھاتا رہے گا جب تک کہ وہ اپنی حجت کو پوری کرے اورخبیث اور طیب میں فرق کر کے دکھلاوے اس نے آپ اپنے مکالمہ میں اس عاجز کی نسبت فرمایا کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اس کو قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کردے گا اور میں کبھی امید نہیں کرسکتا کہ وہ حملے بغیر ہونے کے رہیں گے گو ان کا ظہور میرے اختیار میں نہیں۔ میں آپ لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ میں سچا ہوں پیارو! یقیناً سمجھو کہ جب تک آسمان کا خدا کسی کے ساتھ نہ ہو ایسی شجاعت کبھی نہیں دکھاتا کہ ایک دنیا کے مقابل پر استقامت کے ساتھ کھڑا ہوجائے اور ان باتوں کا دعویٰ کرے جو اس کے اختیار سے باہر ہیں جو شخص قوت اور استقامت کے ساتھ ایک دنیا کے مقابل پر کھڑا ہو جاتا ہے کیا وہ آپ سے کھڑا ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ وہ اس ذات قدیر کی پناہ سے اور ایک غیبی ہاتھ کے سہارے سے کھڑا ہوتا ہے جس کے قبضہ قدرت میں تمام زمین وآسمان اور ہر ایک روح اور جسم ہے سو آنکھیں کھولو اور سمجھ لو کہ اس خدا نے مجھ عاجز کو یہ قوت اور استقامت دی ہے جس کے مکالمہ سے مجھے عزت حاصل ہے اسی کی طرف سے اور اسی کے کھلے کھلے ارشاد سے مجھے یہ جرأت ہوئی کہ میں ان لوگوں کے مقابل پر بڑی دلیری اور دلی استقامت سے کھڑا ہوگیا جن کا یہ دعویٰ ہے کہ ہم مقتدا اور شیخ العرب والعجم اور مقرب اللہ ہیں جن میں وہ جماعت بھی موجود ہے جو ملہم کہلاتی ہے اور الٰہی مکالمہ کا دعویٰ کرتی ہے اور اپنے زعم میں الہامی طور پر مجھے کافر اور جہنمی ٹھہرا چکے ہیں سو میں ان سب کے مقابل پر باذنہ ٖ تعالیٰ میدان میں آیا ہوں تا خدائے تعالیٰ صادق اور کاذب میں فرق کر کے دکھاوے اور تا اس کا ہاتھ جھوٹے کو تحت الثریٰ تک پہنچاوے اور تا وہ اس شخص کی نصرت اور تائید کرے جس پر اس کا فضل و کرم ہے۔ سو بھائیو دیکھو کہ یہ دعوت جس کی طرف میں میاں نذیر حسین صاحب اور ان کی جماعت کو بلاتا ہوں یہ درحقیقت مجھ میں اور ان میں کھلا کھلا فیصلہ کرنے والا طریق ہے سو میں اس راہ پر کھڑا ہوں اب اگر ان علماء کی نظر میں ایسا ہی کافر اور دجّال اور مفتری اور شیطان کا رہ زدہ ہوں تو میرے مقابل پر انہیں کیوں تامل کرنا چاہئے کیا انہوں نے قرآن کریم میں نہیں پڑھا کہ عندالمقابلہ نصرت الٰہی مومنوں کے ہی شامل حال ہوتی ہے اللہ جلّ شانہٗ قرآن کریم میں فرماتا ہے ۱؂ یعنی اے مومنو مقابلہ سے ہمت مت ہارو اور کچھ اندیشہ مت کرو اور انجام کار