بالاتفاق شائع کردیں کہ ہم مقابلہ نہیں کرسکتے اور مومنین کاملین کے علامات ہم میں پائے نہیں جاتے اور نیز لکھ دیں کہ ہم یہ بھی اقرار کرتے ہیں کہ اس شخص یعنے اس عاجز کے نشانوں کو دیکھ کر بلا عذر قبول کر لیں گے اور عوام کو قبول کرنے کیلئے فہمائش بھی کردیں گے اور نیز دعویٰ کو بھی تسلیم کر لیں گے اور تکفیر کے شیطانی منصوبوں سے باز آجائیں گے اور اس عاجز کو مومن کامل سمجھ لیں گے تو اس صورت میں یہ عاجز عہد کرتا ہے کہ اللہ جلّ شانہٗ کے فضل و کرم سے یکطرفہ نشانوں کا ثبوت ان کو دے گا اور امید رکھتا ہے کہ خداوند قوی و قدیر ان کو اپنے نشان دکھائے گا اور اپنے بندہ کا حامی اور ناصر ہوگا اور صدقاً و حقاً اپنے وعدوں کو پورا کرے گا۔ لیکن اگر وہ لوگ ایسی تحریر شائع نہ کریں تو پھر بہرحال مقابلہ ہی بہتر ہے تا ان کا یہ خیال اور یہ غرور کہ ہم مومن کامل اور شیخ الکل اور مقتدائے زمانہ ہیں اور نیز ملہم اور مکالمات الہٰیہ سے مشرّفؔ ہیں مگر یہ شخص کافر اور دجال اور کتے سے بدتر ہے اچھی طرح انفصال پا جائے اور اس مقابلہ میں ایک یہ بھی فائدہ ہے کہ جو فیصلہ ہماری طرف سے یکطرفہ طور پر ایک مدت دراز کو چاہتا ہے وہ مقابلہ کی صورت میں صرف تھوڑے ہی دنوں میں انجام پذیر ہوجائے گا سو یہ مقابلہ اس امر متنازعہ کے فیصلہ کرنے کیلئے کہ درحقیقت مومن کون ہے اور کافروں کی سیرت کون اپنے اندر رکھتا ہے نہایت آسان طریق اور نزدیک کی راہ ہے۔ اس سے جلد نزاع کا خاتمہ ہوجائے گا گویا صدہاکوس کا فاصلہ ایک قدم پر آجائے گا۔ اور خدائے تعالیٰ کی غیرت جلد تر دکھا دے گی کہ اصل حقیقت کیا ہے اور اس مقابلہ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس میں فریقین کو نکتہ چینی کی گنجائش نہیں رہتی اور نہ ناحق کے عذروں اور بہانوں کی کچھ پیش جاتی ہے لیکن یکطرفہ نشانوں میں بد اندیش کی نکتہ چینی عوام کالانعام کو دھوکہ میں ڈالتی ہے یہ بھی جاننے والے جانتے ہیں کہ یکطرفہ نشان بہت سے آج تک اس عاجز سے ظہور میں آچکے ہیں جن کے دیکھنے والے زندہ موجود ہیں مگر کیا علماء باوجود ثبوت پیش کرنے کے ان کو قبول کر لیں گے ہرگز نہیں۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ یہ تمام کلمات اور یہ طریق جو اختیار کیا گیا ہے یہ محض ان منکروں کا جلدی فیصلہ کرنے کے ارادہ سے اور نیز اسکات وافحام کے خیال اور ان پراتمام حجت کی غرض سے اور سچائی کا کامل جلوہ دکھانے کی نیت سے اور اس پیغام کے پہنچانے کیلئے ہے جو اس عاجز کو منجانب اللہ دیا گیا ہے ورنہ نشانوں کا ظاہر ہونا ان کے مقابلہ پر موقوف نہیں نشانوں کا سلسلہ تو ابتداء سے جاری ہے اور ہر یک صحبت میں رہنے والا بشرطیکہ صدق اور استقامت سے رہے کچھ نہ کچھ دیکھ سکتا ہے اور آئندہ بھی خدائے تعالیٰ اس سلسلہ کو بے نشان نہیں