ابؔ جب ہم ان دونوں قسم کی حدیثوں پر نظر ڈال کر گرداب حیرت میں پڑجاتے ہیں کہ کس حدیث کو صحیح سمجھیں اور کس کو غیر صحیح۔ تب ہم کو عقل خداداد یہ طریق فیصلہ کا بتاتی ہے کہ جن احادیث پر عقل اور شرع کا کچھ اعتراض نہیں انہیں صحیح سمجھنا چاہئے۔‘‘ اور ازالۃ الاوہام کے صفحہ ۲۲۴ میں آپ نے مسلم کی اس حدیث کو جس میں یہ بیان ہے کہ دجال معہود کی پیشانی پر ک ف ر لکھا ہوگا جو بخاری میں بصفحہ ۱۰۵۶ مروی ہے یہ کہہ کر اڑا یا ہے کہ یہ حدیث مسلم کی اس حدیث کے مخالف ہے جس میں یہ وارد ہے کہ یہ دجال مشرف باسلام ہوچکا تھا ایسا ہی آپ نے صحیحین کی ان احادیث کو اڑایا ہے جن میں دجّال کے ان خوارق کا بیان ہے کہ اسکے ساتھ بہشت اور دوزخ ہونگے اور اسکے کہنے سے زمین شور سرسبز ہوجائے گی وغیرہ وغیرہ۔ پھر آپ کا اس مقام میں یہ کہنا کہ میں نے صحیحین کی کسی حدیث کو موضوع یا غیر صحیح قرار نہیں دیا اور ان احادیث کے صحیح معنے بیان کرنے میں خداتعالیٰ میری مدد کرتا ہے خلاف واقعہ نہیں تو کیا ہے؟ آپ صحیحین کی احادیث کو موضوع جانتے ہیں اور ساکت الاعتبار سمجھتے ہیں۔ پھر اس اعتقاد کو طولانی تقریروں اور ملمع سازیوں سے چھپاتے ہیں اور یہ خیال نہیں فرماتے کہ جن باتوں کو آپ چھاپ چکے ہیں وہ کب چھپتی ہیں۔ (۳) آپ لکھتے ہیں کہ قرآن کو حدیث کا معیار صحت ٹھہرانے میں امام کے نشان دہی کا بار ثبوت آپ کے ذمہ نہیں ہے اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہر ایک مسلمان تصحیح احادیث کا معیار قرآن کو سمجھتا ہے میں آپ کے اس دعویٰ کا بھی منکر ہوں اور یہ کہہ سکتا ہوں کہ کوئی مسلمان جن کے اقوال سے استناد کیا جاتا ہے اس بات کا قائل نہیں۔ آپ کم سے کم ایک مسلمان کا علماء سلف سے نام لیں جو آپ کے خیال کا شریک ہو اور اگر باوجود ان دعاوی کے آپ پر بارثبوت نہیں ہے تو آپ یہ امر کسی منصف سے(مسلمان ہو یا غیر مذہب) کہلادیں۔ اس باب میں جو آیات آپ نے نقل کی ہیں ان کوآپ کے دعاوی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کی تفصیل جواب تفصیلی میں ہوگی۔ انشاء اللّٰہ تعالٰی۔ (۴) اجماع کے باب میں میرے کسی سوال کاآپ نے جواب نہیں دیا براہ مہربانی میرے سوال پر نظرثانی کریں اوران باتوں کا جواب دیں کہ اجماع کی تعریف جو آپ نے لکھی ہے کس کتاب میں ہے اور بعض صحابہ کے اتفاق کو کون شخص اجماع سمجھتا ہے۔ سکوت کل کا جوآپ نے دعویٰ کیا ہے یہ بھی محتاج نقل وثبوت ہے آپ بہ نقل صحیح ثابت کریں کہ حضرت عمر وغیرہ نے ابن صیاد کو دجال کہا تواس وقت جملہ اصحاب یافلاں فلاں موجود تھے اورانہوں نے