ساتھ ہی دنیا کا خاتمہ ہوجائے گا کیونکہ حقیقی آفتاب و ماہتاب دنیا کے وہی ہیں۔ اس تقریر سے ظاہر ہے کہ بنی آدم کی مرادات بلکہ زندگی کا مدار وہی لوگ ہیں اور بنی آدم کیا ہریک مخلوق کے ثبات اور قیام کا مدار اور مناط وہی ہیں اگر وہ نہ ہوں تو پھر دیکھو کہ بتوں سے کیا حاصل ہے اور تدبیروں سے کیا فائدہ ہے یہ ایک نہایت باریک بھید ہے جس کے سمجھنے کیلئے صرف اس دنیا کی عقل کافی نہیں بلکہ وہ نور درکار ہے جو عارفوں کو ملتا ہے درحقیقت یہ سارے شبہات مقابلہ سے دور ہوجاتے ہیں کیونکہ مقابلہ کے وقت خدائے تعالیٰ خاص ارادہ فرماتا ہے کہ تا وہ جو خدائے تعالیٰ کی طرف سے سچی قبولیت اور سچی برکت رکھتا ہے اس کی عزت ظاہر ہو اگر ُ بت پرست موحد کے مقابل پر آوے اور استجابت دعا میں ایک دوسرے کی آزمائش کریں تو ُ بت پرست سخت ذلیل اور رسوا ہو اسی وجہ سے میں نے پہلے بھی کہہ دیا ہے کہ کامل مومن کی آزمائش کیلئے جیسا سہل طریق مقابلہ ہے ایسا اور کوئی طریق نہیں جس بارے میں کامل مومن کی دعا منظور نہ ہو اور اعلام الٰہی سے اس کو نامنظوری کی اطلاع دی جائے پھر اگر اس کام کیلئے یورپ اور امریکہ کی تمام تدبیریں ختم کی جائیں یا دنیا کے تمام بتوں کے آگے سرر گڑا جائے یا اگر تمام دنیا اپنی اپنی دعاؤں میں اس امر میں کامیابی چاہے تو یہ ناممکن ہوگا۔ اور اگرچہ مومن کامل کا فیض تمام دنیا میں جاری و ساری ہوتا ہے اور اسی کی برکت سے دنیا کیَ کل چلتی ہے اور وہ درپردہ ہریک کیلئے حصولِ مرادات کا ذریعہ ہوتا ہے خواہ کوئی اس کو شناخت کرے یا نہ کرے لیکن جو لوگ خاص طور پر ارادت اور عقیدت کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں وہ نہ صرف اس کی برکت سے دنیا کی مرادات پاتے ہیں بلکہ اپنا دین بھی درست کر لیتے ہیں اور اپنے ایمانوں کو قوی کر لیتے ہیں اور اپنے رب کو پہچان لیتے ہیں اور اگر وہ وفاداری سے مومن کامل کے زیر سایہ پڑے رہیں اور درمیان سے بھاگ نہ جائیں تو بکثرت آسمانی نشانوں کو دیکھ لیتے ہیں۔ اور میں نے جو اس مضمون میں مختلف اقسام کے مصیبت رسیدوں کا ہونا بطور شرط لکھ دیا ہے یہ اسلئے لکھا ہے کہ تاعام طورپر انواع اقسام کی صورتوں میں خدائے تعالیٰ کی رحمت ظاہر ہو اور ہریک طبیعت اور مذاق کا آدمی اسکو سمجھ سکے اور مختلف اقسام کے مصیبت رسیدہ مندرجہ ذیل مثالوں سے سمجھ سکتے ہیں۔ مثلاً کوئی انواع اقسام کے امراض میں مبتلا ہو اور کوئی کسی ناحق کی سزا میں پھنس گیا ہو یا پھنسنے والا ہو اور کسی کا ولد عزیز مفقود الخبرہو اور کوئی خود لاولد ہو۔ اور کوئی جاہ