ہی ظاہر ہوتی ہے مثلاً اگر ہزار ہزار مصیبت رسیدہ دو ایسے شخصوں کے حصہ میں آجائے جن کو مومن کامل اور مستجاب الدعوات ہونے کا دعویٰ ہے اور ایک شخص کی قبولیت دعا کا یہ اثر ہو کہ ہزار میں سے پچا۵۰س یا پچیس۲۵ ایسے باقی رہیں جو ناکام ہوں اور باقی سب کامیاب ہوجائیں اور دوسرے گروہ میں سے شاید پچیس یا پچاس ناکامی سے بچیں اور باقی سب نامرادی کے تحت الثریٰ میں جائیں تو مقبول اور مردود میں صریح فرق ہوجائے گا۔ اس زمانہ کا فرقہ نیچریّہ ان اوہام اور وساوس میں مبتلا معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ ابتدا سے قدرت نے شدنی اور ناشدنی امور میں تقسیم کررکھی ہے اس لئے استجابت دعا کچھ چیز ہی نہیں مگر یہ اوہام سراسر خام ہیں اور حق بات یہی ہے کہ جیسے حکیم مطلق نے دواؤں میں باوجود انضباط قوانین قدرتیہ کی تاثیرؔ ات رکھی ہیں ایسا ہی دعاؤں میں بھی تاثیرات ہیں جو ہمیشہ تجارب صحیحہ سے ثابت ہوتی ہیں اور جس مبارک ذات علّت العلل نے استجابتِ دعا کو قدیم سے اپنی سنت ٹھہرایا ہے اسی ذات قدوس کی یہ بھی سنت ہے کہ جو مصیبت رسیدہ لوگ ازل میں قابل رہائی ٹھہر چکے ہیں وہ انھیں لوگوں کے انفاس پاک یا دعا اور توجہ اور یا ان کے وجود فی الارض کی برکت سے رہائی پاتے ہیں جو قرب اور قبولیت الٰہی کے شرف سے مشرف ہیں اگرچہ دنیا میں بہت سے لوگ ُ بت پرست بھی ہیں جو مومن کامل کی طرف اپنے مصائب کے وقت رجوع بھی نہیں کرتے اور ایسے بھی ہیں جو استجابت دعا کے قائل ہی نہیں اور بکلّی تدابیر اور اسباب کے مقیّد ہیں اور ان کی سوانح زندگی پر نظر ڈالنے سے شائد ایک سطحی خیال کا آدمی اس دھوکہ میں پڑے گا کہ ان کی مشکلات بھی تو حل ہوتی ہیں پھر یہ بات کہ مقبولوں کی دعائیں ہی کثرت سے قبول ہوتی ہیں کیونکر صفائی سے ثابت ہوسکتی ہے اس وہم کا جواب جو قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے یہ ہے کہ اگرچہ کوئی شخص اپنی مرادات کیلئے ُ بت کی طرف رجوع کرے یا اور دیوتاؤں کی طرف یا اپنی تدابیر کی طرف لیکن درحقیقت خدائے تعالیٰ کا پاک قانون قدرت یہی ہے کہ یہ تمام امور مقبولوں کے ہی اثر وجود سے ہوتے ہیں اور ان کے انفاس پاک سے اور ان کی برکات سے یہ جہان آباد ہورہا ہے انھیں کی برکت سے بارشیں ہوتی ہیں اور انھیں کی برکت سے دنیا میں امن رہتا ہے اور وبائیں دور ہوتی ہیں اور فساد مٹائے جاتے ہیں اور انھیں کی برکت سے دنیا دار لوگ اپنی تدابیر میں کامیاب ہوتے ہیں اور انھیں کی برکت سے چاند نکلتا اور سورج چمکتا ہے وہ دنیا کے نور ہیں جب تک وہ اپنے وجود نوعی کے لحاظ سے دنیا میں ہیں دنیا منور ہے اور ان کے وجود نوعی کے خاتمہ کے