و مرتبہ کے بعد لائق رحم ذلت میں پڑا ہو اور کوئی کسی ظالم کے پنجہ میں گرفتار ہو۔ اور کوئی فوق الطاقت اور غیر معمولی قرضہ کی بلا سے جان بلب ہو اور کسی کا جگر گوشہ دین اسلام سے مرتد ہوگیا ہو اور کوئی کسی ایسے غم و قلق میں گرفتار ہو جس کو ہم اس وقت بیان نہیں کرسکے۔ اور علامت چہارم یعنے معارف قرآنی کا کھلنا اس میں احسن انتظام یہ ہے کہ ہریک فریق چند آیات قرآنی کے معارف و حقائق و لطائف لکھ کر انجمن میں عین جلسہ عام میں سناوے پھر اگر جو کچھ کسی فریق نے لکھا ہے کسی پہلی تفسیر کی کتاب میں ثابت ہوجائے تو یہ شخص محض ناقل متصور ہوکر موردعتاب ہو لیکن اگر اس کے بیا ن کردہ حقائق و معارف جو فیِ حدِّ ذاتہا صحیح اور غیر مخدوش بھی ہوں ایسے جدید اور نووارد ہوں جو پہلے مفسرین کے ذہن ان کی طرف سبقت نہ لے گئے ہوں اور بااینہمہ وہ معنے من کل الوجوہ تکلف سے پاک اور قرآن کریم کے اعجاز اور کمال عظمت اور شان کو ظاہر کرتے ہوں اور اپنے اندر ایک جلالت اور ہیبت اور سچائی کا نور رکھتے ہوں تو سمجھنا چاہئے کہؔ وہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہیں جو خدا وند تعالیٰ نے اپنے مقبول کی عزت اور قبولیت اور قابلیت ظاہر کرنے کیلئے اپنے لدُ نی علم سے عطا فرمائی ہیں یہ ہر چہار محک امتحان جو میں نے لکھی ہیں یہ ایسی سیدھی اور صاف ہیں کہ جو شخص غور کے ساتھ ان کو زیر نظر لائے گا وہ بلاشبہ اس بات کو قبول کرلے گا کہ متخاصمین کے فیصلہ کیلئے اس سے صاف اور سہل تر اور کوئی روحانی طریق نہیں اور میں اقرار کرتا ہوں اور اللہ جلّ شانہٗ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر میں اس مقابلہ میں مغلوب ہوگیا تو اپنے ناحق پر ہونے کا خود اقرار شائع کردوں گا اور پھر میاں نذیر حسین صاحب اور شیخ بٹالوی کی تکفیر اور مفتری کہنے کی حاجت نہیں رہے گی اور اس صورت میں ہر ایک ذلت اور توہین اور تحقیر کا مستوجب و سزا وار ٹھہروں گا اور اسی جلسے میں اقرار بھی کردوں گا کہ میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوں اور میرے تمام دعاوی باطل ہیں اور بخدا میں یقین رکھتا ہوں اور دیکھ رہا ہوں کہ میرا خدا ہرگز ایسا نہیں کرے گا اور کبھی مجھے ضائع ہونے نہیں دے گا۔ اب علماء مذکورہ بالا کا اس صاف اور صریح امتحان سے انحراف کرنا[اگر وہ انحراف کریں] نہ صرف بے انصافی ہوگی بلکہ میرے خیال میں وہ اس وقت چپ رہنے سے یا صرف مغشوش اور غیر صحیح جوابوں پر کفایت کرنے سے دانش مند لوگوں کو اپنے پر سخت بدگمان کرلیں گے اگر وہ اس وقت ایسے شخص کے مقابل پر جو سچے دل سے مقابلہ کیلئے میدان میں کھڑا ہے محض حیلہ سازی سے بھرا ہوا کوئی ملمع جواب دیں گے تو یاد رکھیں کہ کوئی