جو تیار ہوں گی ایک ایک نقل ان کی انجمن بھی اپنے دفتر میں رکھے گی اور یہی دن سال مقررہ میں سے پہلا دن شمار کیا جائے گا ہر ایک فریق اپنے حصہ کے مصیبت رسیدوں کیلئے دعا کرتا رہے گا اور بدستور مذکور وہ تمام کارروائی انجمن کی رجسٹر میں درج ہوتی رہے گی۔ اور اگر ایک سال کے عرصہ میں اور اس وقت سے پہلے جو کثرت قبولیت اور غلبہ صریحہ کا اندازہ پیدا ہو کوئی فریق وفات پاجائے اور اپنے مقابلہ کے تمام امر کو ناتمام چھوڑ جائے تب بھی وہ مغلوب سمجھا جائے گا کیونکہ خدائے تعالیٰ نے اپنے خاص ارادہ سے اس کے کام کو ناتمام رکھا تا اس کا باطل پر ہونا ظاہر کرے۔ اور مصیبت رسیدوں کا اندازہ کثیرہ اس لئے شرط ٹھہرایا گیا ہے کہ قبولیت دعا کا امتحان صرف باعتبار کثرت ہوسکتا ہے ورنہ جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں یہ ممکن ہے کہ اگر دعا کرانے والے صرف چند آدمی ہوں مثلاً دو یا تین شخص ہوں تو وہ اپنی ناکامی میں تقدیر مبرم رکھتے ہوں یعنی ارادہ ازلی میں قطعی طور پر یہی مقدر ہو کہ یہ ہرگز اپنی بلاؤں سےَ مخلصی نہیں پائیں گے اور اکثر ایسا اتفاق اکابر اولیاء اور انبیاء کو پیش آتا رہا ہے کہ ان کی دعاؤں کے اثر سے بعض آدمی محروم رہے اس کی یہی وجہ تھی کہ وہ لوگ اپنی ناکامی میں تقدیر مبرم رکھتے تھے لہٰذا ایک یا دو۲ بلا رسیدوں کو معیار آزمائش ٹھہرانا ایک دھوکہ دینے والا طریق ہے اور ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی ناکامی میں تقدیر مبرم رکھتے ہوں پس اگر وہ دعا کیلئے کسی مقبول کی طرف رجوع کریں اور اپنی تقدیر مبرم کی وجہ سے ناکام رہیں تو اس صورت میں اس بزرگ کی قبولیت ان پر مخفی رہے گی بلکہ شاید وہ اپنے خیال کو بدظنی کی طرف کھینچ کر اس خدا رسیدہ سے بداعتقاد ہوجائیں اور اپنی دنیا کے ساتھ اپنی عاقبت بھی خراب کر لیں کیونکہ اس طرز آزمائش میں بعض لوگوں نے نبیوں کے وقت میں بھی ٹھوکریں کھائی ہیں اور مرتد ہونے تک نوبت پہنچی ہے اور یہ بات ایک معرفت کا دقیقہ ہے کہ مقبولوں کی قبولیت کثرت استجابت دعا سے شناخت کی جاتی ہے یعنی ان کی اکثر دعائیں قبول ہوجاتی ہیں نہ یہ کہ سب کی سب قبول ہوتی ہیں۔ پس جب تک کہ رجوع کرنے والوں کی تعداد کثرت کی مقدار تک نہ پہنچے تب تک قبولیت کا پتہ نہیں لگ سکتا۔ اور کثرت کی پوری حقیقت اور عظمت اس وقت بخوبی ظاہر ہوتی ہے کہ جب کہ مومن کامل مستجاب الدعوات کا اس کے غیر سے مقابلہ کیا جائے ورنہ ممکن ہے کہ ایک بدباطن نکتہ چین کی نظر میں وہ کثرت بھی قلت کی صورت میں نظر آوے سو درحقیقت کثرت استجابت دعا ایک نسبتی امر ہے جس کی صحیح اور یقینی اور قطعی تشخیص جو منکر کے منہ کو بند کرنے والی ہو مقابلہ سے