اس کی یادداشت معہ اس کے ثبوت کے رجسٹر میں لکھی جاوے اور بدستور ممبروں کی گواہیاں اس پر ثبت ہوں۔ اور دوسری علامت کی نسبت بھی جو حوادث و نوازل دنیا کے متعلق ہے یہی انتظام مرعی رہے گا اور یاد رہے کہ انجمن کے پاس یہ سب اسرار بطور امانت محفوظ رہیں گے اور انجمن اس بات کا حلفاًاقرار کر لے گی کہ اس وقت سے پہلے کہ فریقین کے موازنہ کیلئے ان امور کا جلسہ عام میں افشا ہو ہرگز کوئی امر کسی اجنبی کے کانوں تک نہیں پہنچایا جائے گا بجز اس صورت کے کہ کسی راز کا فاش ہونا انجمن کے حد اختیار سے باہر ہو اور علامت سوم یعنی قبولیت دعا کی آزمائش کا طریق یہ ہوگا کہ وہی انجمن مختلف قسم کے مصیبت رسیدوں کے بہم پہنچانے کیلئے جس میں ہر ایک مذہبؔ کا آدمی شامل ہوسکتا ہے ایک عام اشتہار دے دے گی اور ہر ایک مذہب کا آدمی خواہ وہ مسلمان ہو خواہ عیسائی یا ہندو ہو یا یہودی ہو غرض کسی مذہب یا کسی رائے کا پابند ہو اگر وہ کسی عظیم الشان مصیبت میں مبتلا ہو اور اپنے نفس کو مصیبت زدوں کے گروہ میں پیش کرے تو بلاتمیز و تفرقہ قبول کیا جائے گا کیونکہ خدائے تعالیٰ نے جسمانی دنیوی فوائد کے پہنچانے میں اپنے مختلف المذاہب بندوں میں کوئی تمیز اور تفرقہ قائم نہیں رکھا اور مصیبت زدوں کے فراہمی کیلئے ایک ماہ تک یا جیسے انجمن مناسب سمجھے یہ انتظام رہے گا کہ ان کے نام کے پرچے معہ ولدیت و سکونت وغیرہ کے ایک صندوق میں جمع ہوتے رہیں بعد ا س کے ان کی اسم وارد و فردیں برعایت اعتدال اور بقید ولدیت و قومیت و سکونت و مذہب و پیشہ و بتصریح بلاء پیش آمدہ مرتب کر کے فریقین کے سامنے معہ ان مصیبت رسیدوں کے پیش کریں گے اور فریقین ان مصیبت رسیدوں کا ملاحظہ کر کے ان دونوں فردوں کو بذریعہ قرعہ اندازی کے باہم تقسیم کرلیں گے اور اگر کوئی مصیبت زدہ کسی دور دراز ملک میں ہو اور بوجہ بعد مسافت و عدم مقدرت حاضر نہ ہوسکے تو ایک شاخ انجمن اس شہر میں مقرر ہو کر جہاں وہ مصیبت زدہ رہتا ہے اس کے پرچہ مصیبت کو صدر انجمن میں پہنچا دیں گی اور بعد قرعہ اندازی کے ہر ایک فریق کے حصہ میں جو فرد آئے گی اس فرد میں جو مصیبت رسیدہ مندرج ہوں گے وہ اسی فریق کے حصہ کے سمجھے جائیں گے جس کو خدائے تعالیٰ نے قرعہ اندازی کے ذریعہ سے یہ فرد دے دی اور واجب ہوگا کہ انجمن مصیبت رسیدوں کی فراہمی کیلئے اور ان کی تاریخ مقررہ پر حاضر ہوجانے کی غرض سے چند ہفتے پہلے اشتہارات شائع کر دیوے ان اشتہارات کا تمام خرچ خاص میرے ذمہ ہوگا ۱ اور وہ دو فردیں مصیبت رسیدوں کی