ہاں ان کو اختیار ہے کہ وہ اپنے ساتھ بٹالوی کو بھی کہ اب تو خواب بینی کابھی دعویٰ رکھتا ہے ملالیں بلکہ ان کو میری طرف سے اختیار ہے کہ وہ مولوی عبدالجبّار صاحب خلف عبدصالح مولوی عبداللہ صاحب مرحوم اور نیز مولوی عبدالرحمن لکھو والے کو جو میری نسبت ابدی گمراہ ہونے کا الہام مشتہر کرچکے ہیں اور کفر کا فتویٰ دے چکے ہیں اور نیز مولوی محمدبشیر صاحب بھوپالوی کو جو انکے متبعین میں سے ہیں اس مقابلہ میں اپنے ساتھ ملالیں اور اگر میاں صاحب موصوف اپنی عادت کے موافق گریز کر جائیں تو یہی حضرات مذکورہ بالا میرے سامنے آویں اور اگر یہ سب گریز اختیار کریں تو پھر مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی اس کام کیلئے ہمت کریں کیونکہ مقلّدوں کی پارٹی کے تو وہی رُکن اول ہیں اور انکے ساتھ ہر ایک ایسا شخص بھی شامل ہوسکتا ہے کہ جو نامی اور مشاہیر صوفیوں اور پیرزادوں اور سجادہ نشینوں میں سے ہو اور انہیں حضرات علماء کی طرح اس عاجز کو کافر اور مفتری اور کذاب اور مکار سمجھتا ہو اور اگر یہ سب کے سب مقابلہ سے منہ پھیر لیں اور کچے ُ عذروں اور نامعقول بہانوں سے میری اس دعوت کے قبول کرنے سے منحرف ہوجائیں تو خدائے تعالیٰ کی حجت ان پر تمام ہے َ میں مامور ہوں اور فتح کی مجھے بشارت دی گئی ہے لہٰذا َ میں حضرات مذکورہ بالا کو مقابلہ کیلئے بلاتا ہوں کوئی ہے جو میرے سامنے آوے؟ اور مقابلہ کیلئے احسن انتظام یہ ہے کہ لاہور میں جو صدر مقام پنجاب ہے اس امتحان کی غرض سے ایک انجمن مقرر کی جائے اگر فریق مخالف اس تجویز کو پسند کرے تو انجمن کے ممبر بتراضی ء فریقین مقرر کئے جائیں گے اور اختلافات کے وقت کثرت رائے کا لحاظ رہے گا اور مناسب ہوگا کہ چار۴وں علامتوں کی پورے طور پر آزمائش کیلئے فریقین ایک سال تک انجمن میں بقید تاریخ اپنی تحریرات بھیجتے رہیں اور انجمن کی طرف سے بقید تاریخ و بہ تفصیل مضمون تحریرات موصول شدہ کی رسیدیں فریقین کو بھیجی جائیں گی۔ علامت اوّل یعنی بشارتوں کی آزمائش کا طریق یہ ہوگا کہ فریقین پر جو کچھ منجانب اللہ بطریق الہام و کشف وغیرہ ظاہر ہو وہ امر بقید تاریخ و بہ ثبت شہادت چار کس از مسلماناں پیش از وقوع انجمن کی خدمت میں پہنچا دیا جائے اور انجمن اپنے رجسٹر میں بقید تاریخ اس کو درج کرے اور اس پر تمام ارکان انجمن یا کم سے کم پانچ ممبروں کے دستخط ہو کر پھر ایک رسید اس کی فریسندہ کو حسب تصریح مذکور بھیجی جائے اور اس بشارت کے صدق یا کذب کا انتظار کیا جائے اور کسی نتیجہ کے ظہور کے وقت