کرائی بھی اور بٹالوی کی کوئی بدگوئی میاں صاحب کو مکروہ معلوم نہ ہوئی اور میاں صاحب کے مکان میں بیٹھ کر ایک اور اشتہار تکبر کا بھرا ہوا بٹالوی نے لکھا جس میں اس عاجز کی نسبت یہ فقرہ درج تھا کہ یہ میرا شکار ہے کہ بدقسمتی سے پھر دہلی میں میرے قبضہ میں آگیا اور میں خوش قسمت ہوں کہ بھاگا ہوا شکار پھر مجھے مل گیا۔ ناظرین!! انصافاًکہو کہ یہ کیسے سفلہ پن کی باتیں ہیں میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس زمانہ کے مہذّب ڈوم اور نقّال بھی تھوڑا بہت حیا کو کام میں لاتے ہیں اور پشتوں کے سفلے بھی ایسا کمینگی اور شیخی سے بھرا ہوا تکبر اپنے حقیقت شناس کے سامنے زبان پر نہیں لاتے۔ اگر میں بٹالوی صاحب کا شکار ہوتا تو اس کے استاد کو دہلی میں کیوں جا پکڑتا کیا شاگرد استاد سے بڑا ہے جب استاد ہی چڑیا کی طرح میرے پنجہ میں گرفتار ہوگیا تو پھر ناظرین سمجھ لیں کہ کیا میں بٹالوی کا شکار ہوا یا بٹالوی میرے شکار کا شکار بٹالوی کی شوخیاں انتہا کو پہنچ گئی ہیں اور اس کی کھوپڑی میں ایک کیڑا ہے جس کو ضرور ایک دن خدائے تعالیٰ نکال دے گا افسوس کہ آج کل ہمارے مخالفوں کا جھوٹ اور بہتانوں پر ہی گذارہ ہے اور فرعونی رنگ کے تکبر سے اپنی عزت بنانی چاہتے ہیں۔ فرعون اس روز تک جو معہ اپنے لشکر کے غرق ہوگیا یہی سمجھتا رہا کہ موسیٰ اس کا شکار ہے آخر رود نیل نے دکھا دیا کہ واقعی طور پر کون شکار تھا۔ میں نادم ہوں کہ نااہل حریف کے مقابلہ نے کسی قدر مجھے درشت الفاظ پر مجبور کیا ورنہ میری فطرت اس سے دور ہے کہ کوئی تلخ بات منہ پر لاؤں۔ میں کچھ بھی بولنا نہیں چاہتا تھا مگر بٹالوی اور اس کے استاد نے مجھے بلایا۔ اب بھی بٹالوی کیلئے بہتر ہے کہ اپنی پالیسی بدل لیوے اور منہ کو لگام دیوے ورنہ ان دنوں کو رو رو کے یاد کرے گا۔ بادرد کشاں ہر کہ درافتاد درافتاد وما علینا الا البلاغ المبین ۔ گندم از گندم بروید جو ز جو از مکافات عمل غافل مشو جو لوگ ان جھوٹے اشتہارات پر خوش ہورہے ہیں جن میں میاں نذیرحسین کی مصنوعی فتح کا ذکر ہے میں خالصاً للہ ان کو نصیحت کرتا ہوں کہ اس دروغ گوئی میں ناحق کا گناہ اپنے ذمہ نہ لیں میں ۲۳؍ اکتوبر ۱۸۹۱ ؁ء کے اشتہار میں مفصل بیان کرچکا ہوں کہ میاں صاحب ہی بحث کرنے سے گریز کرگئے یہ کیا شرارت اور بے حیائی کا بہتان ہے کہ میری نسبت اڑایا ؔ گیا ہے کہ گویا میں میاں نذیرحسین سے ڈرگیا نعوذ باللہ میں ہرگز ان سے نہیں ڈرا اور کیونکر ڈرتا میں اس بصیرت کے