کتے کی موت سے مرے گا اور عام تحریروں میں اس عاجز کا نام کافر اور دجال رکھا اور ۱۱۔ اکتوبر ۱۸۹۱ ؁ء کے کارڈ میں جو اس نے منشی فتح محمد اہلکار ریاست جموں کے نام لکھا جو اس وقت میرے پاس سامنے پڑا ہے بجز گالیوں کے اور کچھ تحریر نہیں کیا کھلی تحریر میںؔ سخت گالیاں دینا اور کارڈوں میں جن کو ہریک شخص پڑھ سکتا ہے بدزبانی کرنا اور اپنے مخالفانہ جوش کو انتہا تک پہنچانا کیا اس عادت کوخدا پسند کرتا ہے یا اس کو شیوہ شرفاء کہہ سکتے ہیں اس گیارہ اکتوبر کے کارڈ میں اس بزرگ نے بڑے جوش سے اس ناکارہ کی نسبت لکھا ہے کہ یہ شخص درحقیقت کافر ہے دجال ہے ملحد ہے کذاب ہے۔ اے میرے مولیٰ اے میرے پیارے آقا میں نے اس شخص کی تمام سخت باتوں اور لعنتوں اور گالیوں کا جواب تیرے پر چھوڑا۔ اگر تیری یہی مرضی ہے تو جو کچھ تیری مرضی وہ میری ہے مجھے اس سے بڑھ کر کچھ نہیں چاہئے کہُ تو راضی ہو میرا دل تجھ سے پوشیدہ نہیں تیری نگاہیں میری تہہ تک پہنچی ہوئی ہیں اگر مجھ میں کچھ فرق ہے تو نکال ڈال اور اگر تیری نگاہ میں مجھ میں کچھ بدی ہو تو میں تیرے ہی منہ کی اس سے پناہ مانگتا ہوں۔ اے میرے پیارے ہادی!! اگر میں نے ہلاکت کی راہ اختیار کی ہے تو مجھے اس سے بچا اور وہ کام کرا کہ جس میں تیری رضا مندی ہو۔ میری روح بول رہی ہے کہُ تو میرے لئے ہے اور ہوگا جب سے کہ تو نے کہا کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور جب سے کہ تو نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ اِنِّیْ مُھِیْنٌ من اراداھانتک اور جب سے کہُ تونے دل جوئی اور نوازش کی راہ سے مجھے کہا کہ انت منی بمنزلۃ لا یعلمھا الخلق تو اسی دم سے میرے قالب میں جان آگئی تیری دل آرام باتیں میرے زخموں کی مرہم ہیں تیرے محبت آمیز کلمات میرے غم رسیدہ دل کےُ مفرّح ہیں۔ میں غموں میں ڈوبا ہوا تھا تو نے مجھے بشارتیں دیں۔ میں مصیبت زدہ تھا تو نے مجھے پوچھا پیارے میرے لئے یہ خوشی کافی ہے کہ ُ تومیرے لئے اور میں تیرے لئے ہوں ۔تیرے حملے دشمنوں کی صف توڑیں گے اور تیرے تمام پاک وعدے پورے ہوں گے تو اپنے بندہ کا آمرز گار ہوگا۔ پھر میں پہلی کلام کی طرف رجوع کر کے ناظرین پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ جس قدر میں نے بٹالوی کی سخت زبانی لکھی ہے وہ صرف بطور نمونہ کے بیان کی گئی ہے ورنہ اس شخص کی بدزبانی کا کچھ انتہا نہیں رہا اور درحقیقت یہ ساری بدزبانی میاں نذیر حسین صاحب کی ہے کیونکہ استاد کے خلاف منشاء شاگرد کو کبھی جرأت نہیں ہوتی میاں صاحب نے آپ بھی بدزبانی کی اور