مقابل پر جو مجھے آسمان سے عطا کی گئی ہے ان سفلی ملاؤں کو سراسر بے بصر سمجھتا ہوں بخدا ایک مرے ہوئے کیڑے کے برابر بھی میں انہیں خیال نہیں کرتا کیا کوئی زندہ مردوں سے ڈرا کرتا ہے یقیناً سمجھو کہ علم دین ایک آسمانی بھید ہے اور وہی کماحقہٗ آسمانی بھید جانتا ہے جو آسمان سے فیض پاتا ہے جو خدائے تعالیٰ تک پہنچتا ہے وہی اس کی کلام کے اسرار عمیقہ تک بھی پہنچتا ہے جو پوری روشنی میں نشست رکھتا ہے وہی ہے جو پوری بصیرت بھی رکھتا ہے۔ ہاں اگر یہ کہا جاتا کہ میں ان کی گندی گالیوں سے ڈر گیا اور ان کی نجاست سے بھری ہوئی باتوں سے ترساں ہوا تو شاید کسی قدر سچ بھی ہوتا کیونکہ ہمیشہ شرفاء بدگفتار لوگوں سے ڈرا کرتے ہیں اور مہذب لوگ گندی زبان والوں سے پرہیز کر جاتے ہیں۔ شریف از سفلہ نمے ترسد بلکہ از سفلگی او مے ترسد۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کا ارادہ تھا کہ میاں نذیر حسین کی پردہ دری کرے اور ان کی آواز دہل کی حقیقت لوگوں پر ظاہر کردیوے سو بالغ نظر جانتے ہیں کہ وہ خواستہ ایزدی پورا ہوگیا اور نذیر حسین کے تقویٰ اور خدا پرستی اور علم اور معرفت کی ساری قلعی کھل گئی اور ترک تقویٰ کی شامت سے ایک ذلت ان کو پہنچ گئی مگر ایک اور ذلت ابھی باقی ہے جو ان کیلئے اور ان کے ہم خیال لوگوں کے لئے طیار ہے جس کا ذکر ہم نیچے کرتے ہیں۔
اے خدا اے مالک ارض و سما
اے پناہ حزب خود در ہر بلا
اے رحیم و دست گیر و رہنما
ایکہ در دستِ تو فصل است و قضا
سخت شورے اوفتاد اندر زمین
رحم کن برخلق اے جان آفرین
امر فیصل از جناب خود نما
تا شود قطع نزاع و فتنہ ہا
اک کرشمہ اپنی قدرت کا دکھا
تجھ کو سب قدرت ہے اے ربُّ الوریٰ
حق پرستی کا مٹا جاتا ہے نام
اک نشاں دکھلا کہ ہو حجت تمام
الہام اللّٰہ تعالٰی
کِتَابٌ سَجَّلْنَا مِنْ عِنْدِنَا
یہ وہ کتاب ہے جس پر ہم نے اپنے پاس سے مہر لگادی ہے
آسمانی فیصلہ
قبل اس کے جو میں آسمانی فیصلہ کا ذکر کروں صفائی بیان کیلئے اس قدر لکھنا ضرور ہے کہ یہ بات ظاہر ہے کہ جو لوگ خدائے تعالیٰ کے نزدیک فی الحقیقت مومن ہیں اور جن کو خدائے تعالیٰ نے خاص اپنے لئے چن لیا ہے اور اپنے ہاتھ سے صاف کیا ہے اور اپنے برگزیدہ گروہ میں جگہ دے دی ہے