یہ سب باتیں میاں صاحب اور ان کے شاگردوں کی سراسر دروغ بے فروغ اور محض اوباشانہ لاف و گزاف ہے جب کہ میری طرف سے اشتہار پر اشتہار اس بات کیلئے جاری ہوا تھا کہ میاں صاحب مسیح کی وفات کے بارہ میں مجھ سے بحث کریں اور اسی مطلب کیلئے میں حرج اور خرچ اٹھا کر ایک ماہ برابر دہلی میں رہا تو پھر ایک حقیقت رس آدمی سمجھ سکتا ہے کہ اگر میاں صاحب بحث کے لئے سیدھے دل سے مستعد ہوتے تو میں کیوں ان سے بحث نہ کرتا نقل مشہور ہے کہ سانچ کو آنچ نہیں میں اسی طرح بحث وفات مسیح کیلئے اب پھر حاضر ہوں جیسا کہ پہلے حاضر تھا اگر میاں صاحب لاہور میں آکر بحث منظور کریں تو میں ان کی خاص ذات کا کرایہ آنے جانے کا خود دے دوں گا اگر آنے پر راضی ہوں تو میں ان کی تحریر پر بلاتوقف کرایہ پہلے روانہ کرسکتا ہوں اب میں دہلی میں بحث کیلئے جانا نہیں چاہتا کیونکہ دہلی والوں کے شور و غوغا کو دیکھ چکا ہوں اور ان کی مفسدانہ اور اوباشانہ باتیں سن چکا ہوں وَلَایُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَیْنِمیں تو یہ بھی کہتا ہوں کہ اگر میں بحث وفات مسیح سے گریز کروں تو میرے پر بوجہ صدّ عن سبیل اللّٰہ خدائے تعالیٰ کی ہزار *** ہو۔ اور اگر شیخ الکل صاحب گریز کریں تو ان پر اس سے آدھی ہی سہی اور اگر وہ حاضر ہونے سے روگردان ہیں تو میں یہ بھی اجازت دیتا ہوں کہ وہ اپنی جگہ پر ہی بذریعہ تحریرات اظہار حق کیلئے بحث کر لیں غرض َ میں ہر طرح سے حاضر ہوں اور میاں صاحب کے جواب باصواب کا منتظر ہوں میں زیادہ تر گرمجوشی سے میاں صاحب کی طرف اسلئے مستعد ہوں کہ لوگوں کے خیال میں ان کی علمی حالت سب سے بڑھی ہوئی ہے اور وہ علمائے ہند میں بیخ کی طرح ہیں اور کچھ شک نہیں کہ بیخ کے کاٹنے سے تمام شاخیں خود بخود گریں گی سو مجھے بیخ ہی کی طرف متوجہ ہونا چاہئے اور شاخوں کا قصہ خود بخود تمام ہوجائے گا اور اس بحث سے دنیا پر کھل جائے گا کہ شیخ الکل صاحب کے پاس مسیح علیہ السلام کی جسمانی زندگی پر کون سے دلائل یقینیہ ہیں جن کی وجہ سے انھوں نے عوام الناس کو سخت درجہ کے اشتعال میں ڈال رکھا ہے مگر یہ پیشگوئی بھی یاد رکھو کہ وہ ہرگز بحث نہیں کریں گے اور اگر کریں گے تو ایسے رسوا ہوں گے کہ منہ دکھانے کی جگہ نہیں رہے گی۔ ہائے مجھے ان پر بڑا افسوس ہے کہ انھوں نے چند روزہ زندگی کے ننگ و ناموس سے پیار کر کے حق کو چھپایا اور راستی کو ترک کر کے ناراستی سے دل لگایا ان کو خوب معلوم تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام