انہوں نے ذرہ توجہ نہ فرمائی میں نے ان کی طرف کئی دفعہ لکھا کہ میں کسی اور عقیدہ میں آپ کا مخالف نہیں صرف اس بات میں مخالف ہوں کہ میں آپ کی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کی جسمانی حیات کا قائل نہیں۔ بلکہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کو ؔ فوت شدہ اور داخل موتی ایماناً و یقیناً جانتا ہوں اور ان کے مرجانے پر یقین رکھتا ہوں اور کیوں یقین نہ رکھوں جب کہ میرا مولیٰ میرا آقا اپنی کتاب عزیز اور قرآن کریم میں ان کو متوفیوں کی جماعت میں داخل کرچکا ہے اور سارے قرآن میں ایک دفعہ بھی ان کی خارق عادت زندگی اور ان کے دوبارہ آنے کا ذکر نہیں بلکہ ان کو صرف فوت شدہ کہہ کر پھر چپ ہوگیالہٰذا انکا زندہ بجسدہ العنصری ہونا اور پھر دوبارہ کسی وقت دنیا میں آنا نہ صرف اپنے ہی الہام کی رو سے خلاف واقعہ سمجھتا ہوں بلکہ اس خیال حیات مسیح کو نصوص بیّنہ قطعیّہ یقینیہ قرآن کریم کی رو سے لغو اور باطل جانتا ہوں اگر یہ میرا بیان کلمہ کفر ہے یا جھوٹ ہے تو آیئے اس امر میں مجھ سے بحث کیجئے پھر اگر آپ نے قرآن اور حدیث سے حیات جسمانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ثابت کر کے دکھلادی تو میں اس قول سے رجوع کروں گا بلکہ وہ اپنی کتابیں جن میں یہ مضمون ہے جلادوں گا۔ اگر بحث نہیں کرسکتے تو آؤ اس بارہ میں اس مضمون کی قسم ہی کھاؤ کہ قرآن کریم میں مسیح کی وفات کا کچھ ذکر نہیں بلکہ حیات کا ذکر ہے یا کوئی اور حدیث صحیح مرفوع متصل موجود ہے جس نے توفّی کے لفظ کی کوئی مخالفانہ تفسیر کر کے مسیح کی حیات جسمانی پر گواہی دی ہے۔ پھر اگر ایک سال تک خدائے تعالیٰ کی طرف سے اس بات کا کوئی کھلا نشان ظاہر نہ ہوا کہ آپ نے جھوٹی قسم کھائی ہے یعنے کسی وبال عظیم میں آپ مبتلا نہ ہوئے تب بلاتوقف میں آپ کے ہاتھ پر توبہ کروں گا مگر افسوس کہ ہر چند بار بار میاں صاحب سے یہ درخواست کی گئی لیکن نہ انہوں نے بحث کی اور نہ قسم کھائی اور نہ کافر کافر کہنے سے باز آئے ہاں اپنی اس کنارہ کشی کی ذلت کو عوام سے پوشیدہ رکھنے کیلئے جھوٹے اشتہارات شائع کردیئے جن میں یہ بار بار لکھا گیا کہ گو وہ تو اس عاجز کو بحث کیلئے اخیر تک بلاتے ہی رہے اور قسم کھانے کیلئے بھی مستعد تھے لیکن یہ عاجز ہی ان سے ڈر گیا اور مقابل پر نہ آیا۔ میاں صاحب اور شیخ الکل کہلانا اور اس قدر جھوٹ! میں ان کے حق میں علی الکاذبین کیا کہوں خدائے تعالیٰ ان پر رحمت کرے۔ ناظرین! اگر کچھ نور فراست رکھتے ہو تو یقیناً سمجھو کہ