کی وفات قرآن کریم اور احادیث صحیحہ مرفوعہ سے بخوبی ثابت ہے مگر سراسر خیانت اور بددؔ یانتی کی راہ سے اس شہادت کے ادا کرنے سے وہ عمداً پیچھے ہٹے رہے انھوں نے سچائی کا پکا دشمن بن کر محض دروغ گوئی کی راہ سے عوام میں اس بات کو پھیلایا کہ قرآن کریم میں یہی لکھا ہے کہ مسیح ابن مریم زندہ بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھایا گیا ہے اور وفات کا کہیں ذکر نہیں مگر چونکہ وہ دل میں جانتے تھے کہ ہم ناحق پر ہیں اور کتاب اللہ کے مخالف کہہ رہے ہیں اسلئے وہ سیدھی نیت سے بحث کرنے کیلئے مقابل پر نہ آئے اور بے ہودہ شرطوں کے ساتھ اس مختصر اور صاف طریق بحث وفات کو ٹال دیا۔ غضب کی بات ہے کہ خدا وند ذوالمجد والجلال تو یہ فرماوے مسیح ابن مریم فوت ہوگیا ہے اور میاں نذیر حسین یہ کہیں کہ نہیں ہرگز نہیں بلکہ وہ تو زندہ بجسدہ العنصری آسمان کی طرف اٹھایا گیا ہے آفرین اے نذیر حسین تو نے خوب قرآن کی پیروی کی۔ اور طرفہ تر یہ کہ قران کریم میں آسمان کی طرف اٹھا لینے کا کہیں ذکر بھی نہیں بلکہ وفات دینے کے بعد اپنی طرف اٹھا لینے کا ذکر ہے جیسا کہ عام طور پر تمام فوت شدہ راستبازوں کیلئے اِ ۱؂ کا خطاب ہے سو وہی رفع الی اللہ اور رجوع الی اللہ جس کیلئے پہلے موت شرط ہے حضرت مسیح کے بھی نصیب ہوگیا کہاں یہ رفع الی اللّٰہ اور کہاں رفع الی السماء ہائے افسوس ان لوگوں نے قران کریم کو کیسے پس پشت ڈال دیا اور اس کی عظمت ان کے دلوں سے کیسی یکدفعہ اٹھ گئی اور خدا ئے تعالیٰ کی پاک کلام کی جگہ بے اصل لکیر سے محبت کرنے لگے کتابوں سے تو لدے ہوئے ہیں مگر خدائے تعالیٰ نے سمجھ چھین لی فتح اور شکست کے خیال نے دیانت اور ایمان کو دبا لیا اور پندار اور ُ عجب نے حق کے قبول کرنے سے دور ڈال دیا اور مجھے تو اس بات کا ذرہ بھی رنج نہیں کہ میاں نذیر حسین اور ان کے شاگردوں نے ایک جھوٹی فتح کو خلاف واقعہ مشہور کردیا اور نفس الامر کو چھپایا۔ اور نہ میرے لئے یہ کچھ رنج کی بات ہے کیونکہ جس حالت میں راست راست اور حق الامر یہی ہے کہ دراصل میاں صاحب ہی ایک بڑی ذلت کے ساتھ ہمیشہ کیلئے شکست یاب اور پس پا ہوگئے ہیں اور ایسے گرے ہیں کہ اب پھر کبھی کھڑے نہیں ہوں گے یہاں تک کہ اسی مغلوبی میں اس عالم سے گذر جائیں گے پھر اگر وہ ملامت خلق پر پردہ ڈالنے کیلئے ایک مصنوعی فتح کا خاکہ اپنی نظر کے سامنے رکھ کر چند منٹ کیلئے