ان تمام اقرارات کے صاف لکھا کہ تم پر کفر کا فتویٰ ہوچکا اور ہم تم کو کافر اور بے ایمان سمجھتے ہیں بلکہ ۲۰ ؍ اکتوبر ۱۸۹۱ ؁ء میں جو تاریخ بحث مقرر کی گئی تھی جس سے پہلے اشتہارات مذکورہ جاری ہوچکے تھے میاں صاحب کی طرف سے بحث ٹالنے کیلئے بار بار یہی عذر تھا کہ تم کافر ہو پہلے اپنا عقیدہ تو مطابق اسلام ثابت کرو پھر بحث بھی کرنا۔ اس وقت بھی بتما متر ادب یہی کہا گیا کہ میں کافر نہیں ہوں بلکہ ان تمام امور پر ایمان رکھتا ہوں جو اللہ جلّ شانہٗ نے مسلمانوں کیلئے عقائد ٹھہرائے ہیں بلکہ جیسا کہ اشتہار ۲۳ ؍اکتوبر ۱۸۹۱ ؁ء میں درج ہے میں نے اپنے ہاتھ سے ایک تحریر بھی لکھ کر دی کہ میں ان تمام عقائد پر ایمان رکھتا ہوں مگر افسوس کہ میاں صاحب موصوف پھر بھی اس عاجز کو کافر ہی جانتے رہے اور کافر ہی لکھتے رہے اور یہی ایک بہانہ ان کے ہاتھ میں تھا جس کی وجہ سے مسیح کی وفات حیات کے بارے میں انہوں نے مجھ سے بحث نہ کی کہ یہ تو کافر ہے کافروں سے کیا بحث کریں اگر ان میں ایک ذرہ تقویٰ ہوتی تو اسی وقت سے جو میری طرف سے عقائد اسلام اور اپنے مسلمان ہونے کا اشتہار جاری ہوا تھا تکفیر کے فتوے سے دستکش ہوجاتے اور جیسا کہ ہزاروں لوگوں میں تکفیر کے فتوے کو مشہور کیا تھا ایسا ہی عام جلسوں میں اپنی خطا کا اقرار کر کے میرے اسلام کی نسبت صاف گواہی دیتے اور ناحق کے سوء ظن سے اپنے تئیں بچاتے اور خلاف واقعہ تکفیر کی شہرت کا تدارک کر کے اپنے لئے خدائے تعالیٰ کے نزدیک ایک عذر پیدا کر لیتے لیکن انہوں نے ہرگز ایسا نہ کیا بلکہ جب تک میں دہلی میں رہا یہی سنتا رہا کہ میاں صاحب اس عاجز کی نسبت گندے اور ناگفتنی الفاظ اپنے منہ سے نکالتے ہیں اور تکفیر سے دست بردار نہیں ہوئے اور ہر چند کوشش کی گئی کہ وہ اس نالائق طریق سے باز آجائیں اور اپنی زبان کو تھام لیں لیکن اس عاجز کی نسبت کافر کافر کہنا ایساان کی زبان پر چڑھ گیا کہ وہ اپنی زبان کو روک نہیں سکے اور نفس امّارہ نے ایسا ان کے دل پر قبضہ کر لیا کہ خدائے تعالیٰ کے خوف کا کوئی خانہ خالی نہ رہا فاعتبروا یا اولی الابصار۔اب میں ان کی تکفیر کو زیادہ طول دینا نہیں چاہتا۔ ہریک شخص اپنی گفتار و کردار سے پوچھا جائے گا۔ ان کے اعمال ان کے ساتھ اور میرے اعمال میرے ساتھ لیکن افسوس تو یہ ہے کہ ناحق کے الزاموں اور مفتریانہ کاموں کی طرف انھوں نے توجہ کی اور جو اصل بحث کے لائق اور متنازعہ فیہ امر تھا یعنے وفات مسیح علیہ السلام اس کی طرف