طرؔ ح کوئی چاہے قرآن کے معنے گھڑ سکتا ہے اور در صورت تسلیم قاعدہ اور تسلیم تعمیم مضمون آیت بزمانہ حال و استقبال یا تجدد دوامی کے اس مضمون کی تخصیص زمانہ نزول سے فلاں دلیل کی شہادت سے ثابت ہے یا اس تعمیم سے جو فائدہ بیان کیا گیا ہے وہ اور صورتوں اور اورمعنے سے بھی جو بیان کئے گئے ہیں حاصل ہوسکتا ہے اور اگر مجرد اختلاف ایک دومفسرین کا تفسیر آیت میں اس تعمیم کا مبطل ہوسکتا ہے اور مجرد اقوال ایک دو مفسر کے آپ کے نزدیک لائق استدلال و استناد ہیں تو آپ مفسرین صحابہ و تابعین کے ان اقوال کو جو دربارہ وفات مسیح وارد ہیں اور صحیح بخاری وغیرہ میں مذکور ہیں قبول کریں۔کیونکہ اصح الکتاب بعد کتاب اللّٰہ صحیح البخاری مسئلہ مسلمہ ہے یا ان کے ایسے معنے بتادیں جن سے حیات مسیح ثابت ہو ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ جہان کے مفسرین اور جملہ صحابہ و تابعین ہمارے ساتھ ہیں ان میں کوئی اس کا قائل نہیں کہ مسیح بن مریم کی حیات اس آیہ سے بطور قطعیۃ الدلالت کے ثابت ہوتی ہے آپ ایک صحابی یا ایک تابعی یا ایک امام مفسر سے بہ سند صحیح اگر یہ ثابت کردیں کہ حضرت مسیح کی حیات اس آیت سے بطور قطعیۃ الدلالت کے ثابت ہے اور برہان قطعی اس کی یہ ہے تو ہم وفات مسیح سے دست بردار ہوجاویں گے لیجئے ایک ہی بات میں بات طے ہوتی ہے اور فتح ہاتھ آتی ہے۔اب اگر آپ یہ ثابت نہ کرسکے تو ہم سے تیس آیات قرآن شریف اوراحادیث صحیح بخاری وغیرہ اور صحابہ و تابعین کے اقوال سنیں جن کو ہم آئندہ بھی جواب ردازالہ اوہام میں انشاء اللہ تعالیٰ نقل کریں گے جیسا کہ بعض اب بھی بیان کئے گئے ہیں۔ آپ مانیں یا نہ مانیں عامہ ناظرین تو اس سے فائدہ اٹھاویں گے اور اس سے نتیجہ بحث نکالیں گے آپ سے ہم کو امید نہیں رہی کہ آپ اصل مدعا کی طرف آئیں اور زائد باتوں کو چھوڑ کر صرف وہ دو حرفی جواب دیں جو اس منصفانہ جواب میں آپ سے طلب کیا گیا ہے۔واٰخردعوانا ان الحَمدُلِلّٰہ ربّ العالمین والصلٰوۃ والسلام علی خیر خلقہ محمد واٰلہ وأصحابہ اجمعین وعلٰی من اتبع الرشد والھدٰی من بعد ماتبین من الغی والطغوی ۔ محررہ سیم ربیع الثانی ۱۳۰۹ ؁ھ کتبہ محمد احسن۔ امروہی نزیل بھوپال۔