یہ ؔ ہے کہ آپ نے نہ صرف ایک تفسیرابن جریر کی عبارت واقوال بعض صحابہ رضوان اللہ علیہم اور وہ بھی بطور شک کے جس پر اِنْ دلالت کرتا ہے نقل کر کے عوام الناس کو یہ جتانا چاہا ہے کہ تمام مفسرین اور عامہ صحابہ و تابعین مسئلہ حیات مسیح میں جو اس آیہ لیؤمننّ بہٖ قبل موتہٖ کو قطعی الدلالت نہیں کہتے محض غلطی اور باطل پر ہیں نعوذ باللہ منہ اور مع ھٰذا یہ بھی جتلانا چاہا ہے کہ وہ سب مرزا صاحب کے مخالف اور ہمارے موافق ہیں اور یہ محض مغالطہ ہے کوئی صحابی کوئی تابعی کوئی مفسر اس بات کا قائل نہیں ہے کہ حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام کی حیات اس آیہ سے بطور قطعی الدلالت کے ثابت ہوتی ہے اور ابن جریر اور ابن کثیر کا مطلب بھی یہ نہیں۔ ہاں البتہ انہوں نے اپنی رائے کو ترجیح دے کر یہ تقوّل مسامحتًا کردیا ہے کہ یہ رائے دلیل قاطع سے ثابت ہے چنانچہ اب جناب سے اسی دلیل قاطع کا مطالبہ ہے اگر موجود ہو تو بیان فرمائی جاوے چوتھی مثال آپ کا عوام الناس کو یہ جتانا ہے کہ نون لیؤمننّ کو باوجودلام تاکید کے التزاماً خالص استقبال کیلئے ٹھہرانا صحابہ و مفسرین کا مذہب ہے جو سراسر آپ کا دھوکا و مغالطہ ہے آپ کی اس قسم کی باتوں کا میں تین دفعہ جواب ترکی بترکی دے چکا آئندہ بھی اگر یہی طریق جاری رہا تو اس سے آپ کو تو یہ فائدہ ہوگا کہ اصل بات ٹل جاوے گی اور آپ کی اتباع میں آپ کی جواب نویسی ثابت ہوجاوے گی مگر اس میں مسلمانوں کا یہ حرج ہوگا کہ ان پر نتیجہ بحث ظاہر نہ ہوگا اور آپ کا اصل حال نہ کھلے گا کہ آپ لاجواب ہوچکے ہیں اور اعتقاد حیات مسیح میں خطا پر ہیں اور بات کو اِدھر اُدھر لے جا کر ٹلا رہے ہیں لہٰذا آئندہ آپ کو اس پر مجبور کیا جاتا ہے کہ اگر بحث منظور اور الزام فرار سے احتراز مدنظر ہے تو زائد باتوں کو چھوڑ کر میری اصل بات یعنی وفات مسیح پر دلیل قطعی قائم کرنے میں کلام و بحث کو محدود و محصور کریں اور جو میں نے بہ شہادت قواعد نحویہ اجماعیہ و باستدلال قواعد علم بلاغت و اصول حدیث واصول فقہ و سائر علوم درسیہ رسمیہ کے مضمون آیت کا زمانہ استقبال کیلئے مخصوص نہ ہونا اور بصورت صحت تحقق اس مضمون کا وقت نزول سے مخصوص نہ ہونا ثابت کیا ہے اس کا جواب در صورت عدم تسلیم قواعد نحویہ اجماعیہ و علم بلاغت وغیرہ کے دو حرفی یہ دین کہ تمام قواعد نحوی و قواعد علم بلاغت وغیرہ بے کار و بے اعتبار ہیں یا خاص کر یہ قاعدہ یعنی صیغہ مستقبل کا واسطے دوام تجددی کے آنا غلط ہے اور اس کو فلاں شخص امام فن نے غلط قرار دیا ہے اور اس کی غلطی پر قرآن یا حدیث صحیح یا اقوال عرب عرباء سے یہ دلیل ہے اور بجائے اس کے قاعدہ صحیحہ فلاں ہے ۱ یایہ کہ فہم معنے قرآن کیلئے کوئی قاعدہ علم بلاغت و علم اصول فقہ و علم اصول حدیث وغیرہ کا مقرر نہیں ہے جس