اقوؔ ل یہ ایک نزاع لفظی ہے اور مرزا صاحب کو کچھ مضر نہیں۔ کسی کلمہ کے تکلم کے بعد متصلہ کا زمانہ آپ کے نزدیک استقبال قریب ہے اور اہل عربیہ کے نزدیک حال ہے۔ مطول اور ہوامش اس کے سے یہ مطلب ثابت ہوچکا اور ایسے مناقشات کرنے کی نسبت عرف اور اہل عربیہ کی طرف سے محشیان مطول وغیرہ یہ کہہ چکے کہ یہ مناقشات واہیہ ہیں قولہ فرق نہ کرنا الخ اقول فرق کرنا ایسی عرفی باتوں میں جو نہایت درجہ کی موشگافی ہے لاحاصل ولاطایل ہے جو منجملہ مناقشات واہیہ کے ہیں نہ داب محصلین جیسا کہ ماہر علم عربیہ و فنون بلاغت بلکہ قاصر پر بھی مخفی نہیں قولہ بلکہ کہا گیا ہے کہ اس کا ایفا الخ اقول اس کے کیا معنے کہ مجاہدہ تو کریں زمانہ حال میں اور ہدایت حاصل ہو کسی زمانہ نامعلوم آئندہ میں۔ اے مولانا مجاہدہ کے ساتھ ہی بطور اتصال لزومی کے ہدایت الٰہی فوراً اور معاً پہنچ جاتی ہے بلکہ مجاہدہ فی اللہ بھی خود ہدایت سے ہی ہوتا ہے۔ مجاہدہ اور ہدایت کا ایسا اتصال ہے جیسا طلوع شمس اور وجود نہار میں۔ اگر جناب کو اس میں کچھ کلام ہوگا تو انشاء اللہ تعالیٰ اس بارہ میں دلائل علمیہ کتاب و سنت سے پیش کی جاویں گی۔ بالفعل بطور تنبیہ کے مختصر عرض کیا گیا اور بڑی تعجب کی بات ہے کہ آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ ہم کو اس سنت اللہ سے ہرگز انکار نہیں کہ مجاہدہ کرنے پر ضرور ہدایت مرتب ہوتی ہے اور پھر بلاوجہ و بغیر دلیل یہ بھی فرماتے جاتے ہیں کہ اس آیت سے یہ مطلب ثابت نہیں ہوتا مولانا اس آیت سے تو یہ مطلب بطور عبارت النص کے ثابت ہوتا ہے اگرچہ دوسری آیات سے بھی ثابت ہو اور نون ثقیلہ کا حال تو ناظرین منصفین کو معلوم ہوچکا کہ اس نے اثبات مدعا جناب سے بالکل دست برداری کردی ہے اور وہ آیت کے پورے معنے کو ادھورا نہیں کرسکتا۔ پھر ہمیں کیا ضرورت واقع ہوئی ہے کہ کلام ابلغ البلغاء کو پورے معنے سے عاری کر کر ادھورے معنے پر محمول کریں قولہ یہ آیات منافی قطعی الدلالت الخ اقول آیت لیؤمننّ بہٖ آپ کے مسلک کے بموجب عام ہے اور مفہوم ان آیات کا خاص ہے اور یہ امر گذر چکا کہ خاص مخصص عام کا ہوا کرتا ہے نہ برعکس جو عکس القضیہ ہوا جاتا ہے ومرّتفصیلہ قولہ یہ حصر غیر مسلّم ہے الخ اقول خود آپ کا حصر ہی معنے غلام میں جو صرف بمعنے کودک صغیر کیا گیا ہے غیر مسلّم ہے قاموس وغیرہ کو ملاحظہ فرمایئے اور منتہی الارب میں بھی لکھا ہے غلام بالضم کودک ومردمیانہ سال ازلغات اضداداست یا از ہنگام ولادت تاآمد جوانی۔ پس اندریں صورت جو صراح وغیرہ سے نقل فرمایا گیا ہے جناب کو کچھ بھی مفید نہیں اور حضرت مرزا صاحب کو کچھ بھی مضر نہیں ہے قولہ اول یہ کہ آیت وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ الخ۔ اقول۔ چند مرتبہ عرض ہوچکا کہ حضرت مرزا صاحب