اسؔ آیت کو وفات مسیح میں صریحۃ الدلالت اور قطعیۃ الدلالت نہیں کہتے جیسا کہ جناب اس آیہ کو حیات مسیح میں قطعیۃ الدلالت فرماتے ہیں۔ بموجب اقرار جناب کے آپ کے نزدیک بھی ضمیر قبل موتہٖ کی ذوالوجوہ ہے جس کو اہل اصول نے ایسی ضمیر کو متشابہ کی مثال میں لکھا ہے پھر اگر ایک وجہ کو تسلیم کر کر اس کے معنے صحیح اور سالم عن الفساد حضرت مرزا صاحب نے بیان فرمائے ہیں تو اس سے یہ کب لازم آتا ہے کہ دوسری وجہ غلط اور باطل ہوگئی قولہ دوم برتقدیر موت بھی الخ اقول اللہ تعالیٰ جو اصدق الصادقین ہے فرماتا ہے۔ ۱ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مخبر صادق نے جو خبر دی ہے اس مسیح آنے والے کے واسطے ازروئے احادیث متفق علیہ کے یہ قید بھی لگادی ہے وامامکم منکم اور فامّکم منکم یعنی امّکم بکتاب اللہ تعالٰی وسنۃ رسولہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم پس جملہ احادیث مطلقہ جو درجہ تواتر معنوی کو پہنچی ہوئی ہیں ان سے مراد بھی یہی مقید ہوگا کما مرّتفصیلہ پس ثابت ہوا کہ مخبر صادق نے یہ خبر بھی نہیں دی کہ مسیح بن مریم جو اس امت میں آنے والا ہے وہی عیسیٰ بن مریم بنی اسرائیلی آوے گا جو نبی و رسول بنی اسرائیل کا تھا بلکہ یہ خبر دی ہے۔ وہ مسیح آنے والا تم میں سے ایک ایسا اور ایسا امام ہوگا اور اس کی امامت کتاب اللہ کے معارف و اسرار اور سنت رسول صلعم کے بیان دقائق و حقائق میں ہوگی جیسا کہ صحیح مسلم میں اس کی بحث واقع ہوچکی قولہ برتقدیر وفات بھی الخ اقول مولانا بڑی وجہ قوی اور معقول موجود ہے جس کا بیان مفصلاً ثابت ہوچکا یعنی حضرت عیسیٰ بن مریم رسول اللہ جنت میں داخل ہوچکے قیل ادخل الجنۃ۔ وادخلی جنتی۔ وماھم عنہا بمخرجین+ قولہ ظاہر اس سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ سوائے احادیث نزول کے دیگر الخ اقول ملاحظہ فرمایا جاوے ازالۃ الاوہام افادات البخاری صفحہ ۹۰۱ تاکہ جناب کو ثابت ہو کہ بخاری میں متعدد جگہ ابن مریم کا ذکر کرکے اس سے مراد کوئی مثیل لیا گیا ہے قولہ افسوس کہ باوجود الخ اقول باوجود اسکے کہ آپکے اقرار سے آیت وان من اھل الکتاب حیات و وفات میں ذوالوجوہ ہے پھر بھی آپ اس کو قطعی الدلالت حیات میں فرماتے ہیں * اناللہ واناالیہ راجعون والی اللّٰہ المشتکی اب سنیئے یہ تو آپ کی تحریر کا جواب ترکی بترکی ہوا اب ایک نہایت منصفانہ اور فیصلہ کرنے والا جواب دیا جاتا ہے آپ اگر انصاف کے مدعی اور حق کے طالب ہیں تو اسی جواب کا جواب دیں اور جواب ترکی بترکی سے تعارض نہ کریں ایسا کریں
گے تو یقیناً سمجھا جاوے گاکہ آپ فیصلہ کرنا نہیں چاہتے اور احقاق حق سے آپکو غرض نہیں