کو وؔ اسطے تائید معنے قراء ت متواترہ کے لانا باطل ثابت ہو اور اس کا جناب سے مطالبہ ہے قولہ تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن کثیر اس معنے کی صحت پر معترض ہیں اقول جواب اس کا مکررسہ کرر گذر چکا۔ بھلا تیرہ سو برس کی تفاسیر اس قدر کثیر کا مقابلہ صرف ایک تفسیر ابن جریر ومن تبعہ یعنے ابن کثیر کیا کرے گی وللاکثر حکم الکل والنادر کالمعدوم علاوہ یہ کہ اقوال مندرجہ ابن جریر معارض ہیں نصوص قرآن مجید اور حدیث شریف کے فتسقط لا محالۃ قولہ یہ محض غلط ہے ۱لخ اقول یہ ثبوت تعارض بین المعنیین کی کیا عمدہ دلیل ارشاد ہوئی ہے سبحان اللہ مگر یہ تو ارشاد ہو کہ یہ تعارض کونسا ہے آیا صرف تعارض عرفی بمعنے متعدد کے ہے یا بمعنے تناقض منطقی کے۔ بشق اول حضرت مرزا صاحب کو کچھ مضر نہیں دو متعدد معنے جمع ہوسکتے ہیں مثلت مثلاً یہ معنے کہ ہر ایک اہل کتاب کو قبل موت عیسیٰ بن مریم کے یہ خیالات شک و شبہ صلب و قتل کے حضرت عیسیٰ بن مریم کی نسبت چلے آتے ہیں جو اس آیت کے اوپر مذکور ہیں اور ان کو ان شبہات کے ہونے پر یقین ہے اور یہ معنے کہ ہر ایک اہل کتاب اپنے مرنے سے پہلے اس بیان مذکورہ بالا پر ایمان و یقین رکھتا ہے کہ مسیح بن مریم یقینی طور پر صلب و قتل کی موت سے نہیں مرا اس کے قتل یا صلب کی نسبت صرف شکوک و شبہات ہیں علٰی ہٰذا القیاس اور معانی جو حضرت اقدس نے ازالہ وغیرہ میں بہ سبب ذوالوجوہ ہونے آیت کے لکھے ہیں وہ متناقض نہیں جو باہم جمع نہ ہوسکیں۔ اور بشق ثانی ان دونوں معنوں میں تناقض ثابت فرمایا جاوے ورنہ حضرت مرزا صاحب کا یہ کہنا کہ الہامی معنے ان معنوں کے مغائر نہیں بہت درست اور نہایت صحیح ہے۔ پھر سخت تعارض اور بین تخالف کیسا۔ یہ کیا ضرورت ہے کہ درصورت ارجاع اس ضمیر کی طرف کتابیکے ہونے میں ہم نے ان دونوں معنی کا غیر متناقض ہونا ثابت کردیا ورنہ جمع کیوں ہوسکتی اجتماع النقیضین تو درست ہے ہی نہیں اور حضرت مرزا صاحب یہ کب کہتے ہیں کہ ضمیر قبل موتہٖ کی طرف عیسیٰ بن مریم کے رجوع نہیں ہوسکتی وہ تو یہ کہتے ہیں کہ درصورت ارجاع ضمیر کے طرف عیسیٰ بن مریم کے وہ معنے جو آپ کرتے ہیں وہ مورد فساد ہیں اور اس وجہ سے قابل تسلیم نہیں ہیں اور آیت وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ کو وفات مسیح میں مرزا صاحب نے کسی جگہ یقینی صریحۃ الدلالت اور قطعیۃ الدلالت نہیں لکھا ہاں وفات مسیح میں بطور اشارۃ النص کے لکھاہے اب آپ ہی انصاف فرمایئے کہ آیت ذوالوجوہ کا باوجود اقرار ذوالوجوہ ہونے کے ایک وجہ پر اصرار کر کر اس وجہ کو قطعی الدلالت کہہ دینا اور باقی وجوہ کا بلادلیل جحدو انکار کرنا ۱؂ کا مصداق ہے یا نہیں۔ قولہ یہ امر مسلم ہے الخ۔