قرأؔ ت کو واسطے تائید معنے قراء ت متواترہ کے لائے ہیں قولہ معنے مذکور کا فساد اس وجہ سے نہیں ہے الخ اقول جب کہ اس معنے کا فساد جو آپ کے معنے کے مخالف ہیں۔ اس وجہ سے نہیں ہے کہ وہ مخالف ہو قاعدہ نحو کے تو پھر اور کس وجہ سے وہ فساد ہے بیان فرمایا جاوے ہم نے یہ بھی تسلیم کیا کہ آپ کے معنے قاعدہ نحو کے سراسر موافق ہیں لیکن اس سے یہ کب لازم آتا ہے کہ دوسرے معنے جو حسب اقرار جناب کے مخالف قاعدہ نحو کے نہیں ہیں وہ فاسد اور باطل ہوں۔ یہ کیسا معما ارشاد فرمایا گیا ذرا سو چکر اور تامل فرما کر توضیح اس کی فرمائی جاوے قولہ پس اس قول کا کذب کالشمس فی نصف النہار ظاہر ہوگیا اقول یہ بات اپنے محل پر ثابت ہوچکی ہے کہ جب صرف اقوال رجال میں بحث آکر پڑتی ہے تو لحاظ کثرت اقوال کا کیا جاتا ہے نہ قلّت کا پس اگر تمام جہان کی تفسیروں میں سے ایک تفسیر ابن جریر جناب نے پیش فرمادی اور ابن کثیر اس کا تابع ہوا تو اس سے قطعیت معنے جناب کی کیونکر حاصل ہوگئی۔ ایک یا دو مفسرین تو ایک طرف اور تمام جہان کی تفسیریں دوسری طرف۔ اب آپ ہی انصاف سے فرماویں کہ کس کو ترجیح دی جاوے گی پھر اگر حضرت اقدس مرزا صاحب نے بموجب مثل مشہور و مقبول وللاکثر حکم الکل کے ایسا کچھ ارشاد فرمایا کہ سب کے سب آپ ہی کے معنے کو ضعیف ٹھہراتے ہیں تو اس قول کا کذب کالشمس فی نصف النہار کیونکر ظاہر ہوگیا۔ بحکم النادر کالمعدوم وللاکثرحکم الکل کے یہ تو عکس القضیہ ہے اور پھر یہ سب مضمون اس صورت میں ہے کہ معنے مطلوب جناب کے نصوص کے متعارض نہ ہوتے درصورتیکہ یہ معنے متعارض نصوص بیّنہ کے ہیں تو پھر ابن جریر کے قول سے جس کا تابع ابن کثیر بھی ہوگیا ہے قطعیت آپ کے معنے کی اور بطلان دوسرے معنے کا کیونکر ثابت ہوسکتا ہے بیّنوا توجروا قولہ بالجملہ مقصود رفع مخالفت ہے نہ اثبات دعویٰ۔ اقول بڑے تعجب کی بات ہے جب آپ کے معنے پر کوئی بڑا فساد لازم آتا ہے تب آپ دعوے ہی سے دست بردار ہوجاتے ہیں اور پھر بھی اپنے دعوے کو قطعی الثبوت فرمائے جاتے ہیں۔ جناب من اگر معنے قراء ت متواترہ کے وہ کئے جاویں جو قراء ت غیر متواترہ سے ثابت ہوتے ہیں تو پھر دعوے جناب پر اب کونسی دلیل باقی رہ گئی۔ مولانا رفع مخالفت جو آپ کیا کریں ذرہ سوچ کر اور تامل فرما کر کیا کریں وہ رفع مخالفت ہی کیا ہوا جس سے دعویٰ بالکل نیست و نابود ہوجاوے۔ ۱ قولہ سند میں جو جرح ہے وہ الخ ا قولکوئی ایسی جرح جناب نے بیان نہیں فرمائی جس سے تمام مفسرین محققین کا اس قراء ت غیر متواترہ