اھل الکتاب الا من اٰمن بہٖ اس کو آپ فرماچکے ہیں کہ آیت سے یہ معنے یعنی وقت نزول ہرگز ثابت نہیں ہوتے اور حسن بصری کی طرف قبول ان معنے کا اسناد کرنا نہایت موجب تعجب ہے حسن بصری کا قول تو جناب نے یہ نقل کیا ہے یعنی النجاشی واصحابہ اس قول میں معنے استقبال سے کیا نسبت یہ تو خاص حال ہوگیا۔ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تو خود ان معنے کا قبول بطور شک کے فرماتے ہیں نہ مثل جناب کے کہ یہ آیت معنے مطلوب میں قطعی الدلالت لذ اتہا ہے اور ابن کثیر سے جو جناب نقل فرماتے ہیں کہ یہ معنی بدلیل قاطع ثابت ہیں الخ۔لہٰذا جناب سے مطالبہ دلیل قاطع کا ہے وہ دلیل قاطع بیان فرمائی جاوے ۔ نگفتہ ندارد کسی باتو کار۔ و لیکن چوگفتی دلیلش بیار
آگے رہا کسی قول کاکسی کے نزدیک اولیٰ ہونا یا اصح ہونا سو یہ چیز دیگر ہے اور قطعی الدلالت ہونا چیز دیگر وشتّان بینہما پس تقریب دلیل جناب کی محض ناتمام ہے قولہ میں تو وہی معنے جو تمام صحابہ و تابعین و غیر ہم سے الخ اقول۔ تمام صحابہ یا تابعین سے منقول ہونا ان معنی کا غیر صحیح ثابت ہوچکا اور آپ خود تسلیم فرماچکے کہ ہاں دو قول مرجع ضمیر قبل موتہٖ میں البتہ منقول ہیں انتہٰی قولکم پس ایسا کچھ فرمانا جناب کا اس اقرار کے مناقض ہے اور مسائل مستنبط کتاب و سنت کو مخترع فرمانا یہ ایک اختراع جدید ہے اور اہل لسان اپنی کلام میں ازمنہ ثلثہ کی تصریح کب کیا کرتے ہیں بلکہ عجم کے علماء اور غیر علماء بھی وقت تخاطب کے ایسی تصریحات نہیں کرتے یہ صرف عجم کے اطفال وقت پڑھنے میزان منشعب کے پڑھا کرتے ہیں کہ فَعَلَ کیا اس ایک مرد نے بیچ زمانہ گذرے ہوئے کے صیغہ واحد مذکر غائب کا بحث اثبات فعل ماضی معروف کی۔ اور حضرت اقدس مرزا صاحب نے جو زمانہ استقبال کو بھی تسلیم فرما کر معنے بیان فرمائے ہیں وہ تو یہ مضمون ہے کہ خصم راتابد روازہ بایدرسانید یہ جناب کو کیا مفید ہے اور یہ جو آپ ارشاد فرماتے ہیں کہ جن صحابہ نے ارجاع ضمیر کا طرف کتابی کے کیا ہے وہ خطا پر ہیں اگر آپ کی اس تحظیہ صحابہ کو سرسری طور پر تسلیم بھی کر لیا جاوے تو حضرت مرزا صاحب جو عاشق رسول مقبول اور فریفتہ محبت صحابہ صلعم ہیں ہرگز اس آپ کی بات کو تسلیم نہ کریں گے کہ وہ صحابہ قطعی غلطی اور باطل پر ہیں جیسا کہ آپ پرچہ اول میں فرماچکے ہیں کہ جتنے معنے اس کے ماعدا ہیں سب غلط اور باطل ہیں ۱ پس کیونکر ہوسکتا ہے کہ یہ مقام استبعاد کا نہ ہو قولہ قراء ت مذکورہ فی الواقع ضعیف ہے الخ اقول جب تک کہ حکم ترجمہ عتّاببن بشیر اور خصیب کا بموجب علم اصول حدیث کے بیان نہ فرمایا جاوے اور یہ ثابت نہ کیا جاوے کہ ایسی رواۃ جو مرتبہ خامسہ میں واقع ہیں ان کی روایت سے جو قراء ت آئی ہو اس سے تائید معنی قراء ت کے درست نہیں تب تک یہ قول قابل قبول نہیں ہوسکتا کیونکہ تمام مفسرین محققین اس