کرناؔ کسی معنے قراء ت متواترہ کا جیسا کہ تمام مفسرین محققین نے کیا ہے درست نہیں ہے اب تھوڑی سی گذارش اور ہے کہ عتّاب بن بشیر سے بخاری۔ ابو داؤد ۔ ترمذی۔ نسائی نے تخریج کی ہے جیسا کہ تقریب میں بھی لکھا ہے کیا جناب کے نزدیک یہ عتّاب ساقط الاعتبار ہے۔ آگے رہا خصیب جن محدثوں نے اس سے تخریج کی ہے اس کو میں ابھی نہیں لکھتا کیونکہ تقریب میں بھی اس کے ترجمہ میں اس مقام پر کچھ نہیں لکھا دیکھ رہا ہوں کہ آپ عتّابکی نسبت کیا جواب دیتے ہیں یا اس ناچیز پر عتّاب ہی عتّابفرماتے ہیں۔ قولہ عموماً یہ بات غلط ہے۔ اقول اس اسناد کی رواۃ میں علل ظاہرہ تو جناب والا بیان فرما چکے لیکن علل خفیہ غامضہ سے اطلاع نہ فرمائی۔ شائد اس واسطے کہ ان کی پرکھ سوائے جناب والا کے اور کسی کو حاصل نہیں اسی واسطے تمام مفسرین محققین نے اس قراء ت سے بغیر تحقیق تائید معنے قراء ت متواترہ کے فرمائی ہے کیونکہ وہ ان علل خفیّہ غامضہ سے واقف نہ تھے اور جناب والا واقف ہیں۔ قولہ ہاں دو قول مرجح ضمیر قبل موتہٖ میں البتہ منقول ہیں الخ اقول جب کہ حسب اقرار جناب کے دو قول آیت کی تفسیر میں منقول ہیں اور یہ ثابت ہوچکا کہ تمام تفاسیر میں قول راجح بدلائل یہی لکھا ہے کہ ضمیر قبل موتہٖ کی کتابی کی طرف راجع ہے تو پھر جو معنے جناب لیتے ہیں ان کی قطعیت میں کیونکر فرق نہ آوے گا اور وماھو جوابکم فھوجوابناجو ارشاد ہے وہ یہاں پر نہیں ہوسکتا یہ تو قیاس مع الفارق ہے کیونکہ آیت اِنِّی مُتَوَفِّیْکَ اورفَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِی میں احتمال مخالف غیر ناشی عن الدلیل ہے یہ تو مقابلہ نص کا ہوا جاتا ہے۔ ساتھ قول کے بلکہ ترجیح قول کی اوپر نص کے ہوئی جاتی ہے اور یہی تو تقلید ناجائز ہے جس کو ہم اور آپ مدت سے چھوڑے بیٹھے ہیں ذوالوجوہ کلام میں خواہ کلام الٰہی ہو یا کلام رسول مقبول صلعم کسی معنے کو اقوال سے ترجیح ہوسکتی ہے اور نص کے مقابل قول کی ترجیح درست نہیں کتب اصول فقہ مسلم الثبوت وغیرہ کے یہ مسئلہ معتبر نہیں ہوچکا ہے بسبب عدم فرق کرنے کے ان دونوں امروں میں جناب والا کو اس مقام پر دھوکا ہوگیا ہے ذرا اس بارہ میں غور فرمایا جاوے پس ثابت ہوا کہ یہ قیاس جناب کا قیاس مع الفارق ہیقولہ یہ کذب صریح ہے اقول صحیح بخاری سے ثابت ہوچکا ہے کہ ابن عباس وفات مسیح کے قائل ہیں۔ پس بحکم قاعدہ اصول حدیث کہ صحیح بخاری مقدم ہے سب کتب حدیث پر اصحّ الکتب بعد کتاب اللّٰہ صحیح البخاری مسئلہ مسلمہ ہے پس سوائے اس کے جو قول مخالف ابن عباس کا ہے ساقط رہے گا پھر گذارش یہ ہے کہ بعض ائمہ دیگر بھی مثل ابن اسحاق اور وہب وغیرہ کے وفات مسیح کے قائل ہیں۔ اور جو معنے اس آیت کے ابومالک نے کئے ہیں کہ ذٰلک عند نزول عیسی بن مریم لایبقٰی احد من