قطعی الدلالت ہونے میں مضر نہیں ہوسکتا اور یہ چند مرتبہ گذر چکا کہ آیت وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ کو حضرت اقدس نے دربارہ وفات مسیح قطعی الدلالت کہیں نہیں لکھا قولہ اور تفسیر مظہری والے کا یہ تقول الخ اقول مولانا صاحب قول صاحب تفسیر مظہری کا اگر آپ کے نزدیک تقول تھا اور مخدوش تھا اور مخالف تھا عامہ تفاسیر کی تو کسی تفسیر سے اس کا مخدوش ہونا ثابت کیا ہوتا بلاوجہ کسی مفسر کے قول مبرہن کو مخدوش اور تقول اور مخالف کہہ دینا دیانت اور انصاف کے خلاف ہے اور جو صارف معنے حال سے جناب نے نون ثقیلہ کو قرار دیا تھا وہ تو صارف رہا ہی نہیں پھر اگر کوئی طالب حق تفسیر مظہری کی طرف سے آپ کی خدمت میں یہ کہے کہ لام تاکید جو حال کے واسطے آتا ہے وہ صارف عن معنے الاستقبال ہے تو آپ اس کا کیا جواب دیویں گے اور طرفہ یہ ہے کہ جس تفسیر کی عبارت کو جناب نے دارمدار اپنے مباحثہ کا گردانا ہے اور مناط استدلال اس کو قرار دیا ہے اس عبارت میں خود جناب نے یہ قول بھی نقل کیا ہے۔وقال الحسن البصری یعنی النجاشی واصحابہ رواھما ابن ابی حاتم ۔اب آپ ہی انصاف فرماویں کہ جب حال کے معنے آپ کے نزدیک محض باطل تھے تو جناب نے قول حسن بصری کو جو مناقض آپ کے مدعا کے ہے کیوں نقل فرمایا اور اس کا ابطال بدلیل کیوں نہیں کیا یہ کیا بات ہے کہ جس معنے کو التزاماً آپ مراد لیتے ہیں اس پر استدلال قول مناقض سے کیا جاوے۔اِنْ ھٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ اور رواۃ اسناد قراء ت ابی بن کعب کی جو تفسیر ابن کثیر میں درج ہیں اور جناب نے ان کی تضعیف کی ہے اور علم اسماء الرجال میں ہمہ دانی ظاہر فرمائی ہے اس کی نسبت یہ گذارش ہے کہ جناب کی تحریر میں خفیف بالفا لکھا ہوا ہے اور تقریب میں کسی جگہ خفیف کا ترجمہ نہیں لکھا اگر خصیب بصاد و با ہے تو جناب پر واجب تھا کہ اول تو بمقابل حضرت اقدس مرزا صاحب کے جو آپ کے نزدیک علم اسماء الرجال میں دخل نہیں رکھتے اور شائد اس علم میں حضرت اقدس کو توجہ والتفات نہ ہوا ہوکیونکہ مولانا شاہ ولی اللہ صاحب نے بھی حجۃ اللہ میں اس علم کو قشر علوم حدیث فرمایا ہے اندریں صورت آپ ثابت کرتے کہ خصیب تین ہیں جن میں سے یہاں پر خصیب بصیغہ تصغیر معین ہے اور یہ ترجمہ اس کا جو مراتب اثنا عشر سے مرتبہ خامسہ پر واقع ہے کہ بموجب علم اصول حدیث کے اس مرتبہ خامسہ کا فلاں حکم ہے مثلاً یہ کہ حدیث اس کی اس مرتبہ فلاں کی ہوتی ہے۔ علٰی ہٰذَا القیاس۔ عتاب بن بشیر کا مرتبہ بھی مراتب اثنا عشر سے مرتبہ خامسہ پر ہے پس بمقابلہ ہم جیسے طلبہ کے جو علم اسماء الرجال سے بے خبر ہیں اس قدر تو آپ پر ضرور واجب تھا کہ رواۃ مرتبہ خامسہ کا حکم علم اصول حدیث سے بیان فرما دیتے تاکہ یہ معلوم ہوجاتا کہ ایسے رواۃ مرتبہ خامسہ کی روایت سے جو کوئی قراء ت آئی ہو اس سے تائید