کلا ؔ م میں احتمال ناشی عن الدلیل پیدا ہو وہ کلام بالضرور ایک وجہ پر قطعی الدلالت نہیں رہتا۔ اور جو احتمال غیر ناشی عن الدلیل ہے وہ عند اولی الابصار ساقط الاعتبار ہوتا ہے۔ اگر ایسے احتمالات بعیدہ کا لحاظ کیا جاوے تو ہم کو ضروریات دین کا ثابت کرنا بھی مشکل ہوجاوے گا تفاسیر میں سب طرح کے اقوال ضعیفہ و رکیکہ و روایات موضوعہ مندرج ہیں اگر ان سب روایات موضوعہ اور اقوال رکیکہ کو تسلیم کیا جاوے تو پھر شرع اسلام میں ایک بڑا عذر برپا ہو جاوے گا اور اگر کوئی کہے کہ توفّی کے معنوں میں سوائے وفات و موت کے جو دوسرا احتمال مفید مخالفین ہے وہ بھی ناشی عند الدلیل ہے۔ تو گذارش یہ ہے کہ ایسے مدعی پر لازم ہے کہ ثبوت اس احتمال کا دلیل سے ثابت کرے اور انعام ایک ہزار روپیہ کا جو حضرت اقدس نے ازالۃ الاوہام میں ایسے شخص کے واسطے مشتہر کیا ہے وہ طلب کرے بعد طے کرنے اس مرحلہ کے یہ بات زبان پر لاوے کہ معنے توفّی میں سوائے موت وفات کے دوسرا احتمال بھی ناشی عن الدلیل ہے۔ ودونہ خرط القتاد قولہ نووی کی عبارت سے صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے الخ۔ اقول جب کہ نووی جیسے شارح حدیث نے یہ امربدلیل ثابت کیا ہے کہ اکثر ائمہ تفسیر نے ضمیر موتہ ٖ کی کتابی کی طرف راجع کی ہے تو قطعی الدلالت ہونے میں آیت مذکورہ کے دربارہ حیات مسیح کیونکر فرق نہ آوے گا۔ آگے رہا آپ کا جرح جو نسبت قطعی الدلالت ہونے آیت متوفّیک وغیرہ کے کیا ہے اس کا جواب مختصرا بھی اوپر گذر چکا ہے اور تفسیر ابن کثیر میں جو یہ قول نقل کیا ہے کہ المراد بالوفاۃ ھہنا النوم یہ جناب کو کچھ مفید نہیں کیونکہ یہ رائے ہے ایک مفسر کی غایۃ الامر یہ کہ ایک جماعت قلیلہ کی رائے ہے جو غیر پر حجت نہیں۔ خصوصاً ایسی حالت میں جو صحیح بخاری کی معارض ہے بالفعل ہم اس رائے پر یہ جرح کرتے ہیں کہ اگر مراد توفّی سے انامت ہوتی تو فَیُرْسِلُ الْاُخْرٰی کا مضمون واقع ہوجاتا یا اس کی نسبت کچھ ایسی تصریح ہوتی کہ یہ نوم ایک غیر معہود نوم ہے یہ کیسی نوم ہے کہ قریب دو ہزار برس کے گذر چکے اور ابھی تک فَیُرْسِلُ الاخرٰی واقع نہیں ہواکمامرّبیانہ سابقًا اور حضرت اقدس مرزا صاحب نے کسی جگہ پر آیت وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبکو وفات مسیح میں قطعی الدلالت نہیں لکھا ومن ادعی فعلیہ تصحیح نقل قولہ۔ قولہ اور ایک ترجمہ کر کے اوراق کو بڑھایا ہے الخ اقول جب کہ اختلاف مع الدلیل ہے تو ثابت ہوچکا کہ منافی قطعیت ہے اور آیت اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ اور فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ میں جو احتمال دوسرا معنے توفّی میں ہے وہ ناشی عن الدلیل نہیں لہٰذا وہ احتمال اس کے