قطعیؔ الدلالت فرماتے ہیں تو بالضرور جو الزام مولوی صاحب پر عائد ہے وہ حضرت اقدس پر بھی عائد ہوجاتا واذ لا فلا آگے رہی یہ بات کہ کوئی ایسے معنے کسی آیت کے جو مفسرین سابقین پر مکشوف نہ ہوئے ہوں اور وہ حضرت اقدس مرزا صاحب پر مکشوف ہوں سو اس میں کوئی محذور لازم نہیں آتا کم ترک الاول للاٰخر مثل مشہور ہے کیونکہ یہ بات اپنے محل پر ثابت کی گئی ہے کہ معارف و اسرار قرآن مجید کے ایک خزائن لاانتہا ہیں جو وقتاً فوقتاً اولیاء اللہ اور علماء عارفین باللہ پر نازل ہوتے رہتے ہیں پچھلے مفسرین نے یہ کب دعویٰ کیا ہے کہ جس قدر معارف و اسرار قرآن مجید کے تھے وہ سب ہم پر مکشوف ہوگئے اور اب آئندہ کوئی اسرار اور معارف باقی نہیں رہا۔ خصوصاً تفاصیل و تفاسیر ان پیشگوئیوں کی جو ابھی تک واقع نہیں ہوئیں ان کی نسبت تو سب کا یہ اقرار ہے کہ ۱ قال اللّٰہ تعالی: ۲ جب کہ ہر شے کی نسبت ایسا کچھ ارشاد فرمایا گیا تو قرآن مجید جو افضل الاشیاء ہے اس کے خزائن اسرار کا کیا ذکر ہے قولہ یہ طعن بادنیٰ تغیر آپ پربھی وارد ہوتے ہیں۔ اقول ۔ جوابہ مرّاٰنفا ۔قولہ اس عبارت سے صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے الخ۔ اقول ۔ جو معنے آیت لیؤمننّ بہ قبل موتہٖ کے آپ لیتے ہیں ان معنے کو تمام مفسرین محققین نے سوائے ابن جریر طبری ومن تبعہ کے بطور مرجوح قول ضعیف قرار دیا ہے اور قول اول اور راجح یہی لکھا ہے کہ ضمیر قبل موتہٖ کی طرف کتابی کے راجع ہے اور مانا کہ دونوں احتمال مساوی درجہ پر ہیں اور پھر یہ بھی تسلیم کیا کہ آپ کے نزدیک قول مرجوح تو راجح ہے اور قول راجح مرجوح ہے لیکن مع ھٰذا ایک قول کو قطعی الدلالت کہنا باطل ہے اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال۔ اور آیت اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ بالضرور وفات مسیح میں صریح الدلالت ہے اور توفّی کے معنے میں سوائے وفات کے جو اور قول لکھے ہیں وہ غیر صحیح ہیں۔ اب اگر کہا جاوے کہ جب کہ تم نے آیت لیؤمننّ بہ قبل موتہٖ کو بسبب ذوالوجوہ اور ذو احتمالات ہونے کے متشابہ قرار دے دیا۔ اور تمہارے نزدیک صریح الدلالت نہ رہی تو پھر آیت متوفّیک اور فلمّا توفّیتنیبھی وفات مسیح میں صریح الدلالت نہ رہی کیونکہ وہ بھی ذوالوجوہ ہے اس واسطے کہ تفاسیر میں معنے توفّی کے سوائے موت کے اور کچھ بھی تو لکھے ہیں۔ تو جواب یہ ہے کہ احتمال کی دو قسمیں ہیں ایک تو احتمال ناشی عن الدلیل ہوتا ہے اور دوم احتمال غیر ناشی عن الدلیل۔ احتمال ناشی عن الدلیل مقبول ہوتا ہے اور جس