قبو ؔ ل بھی کر لیں اور اگر سب علمائے اسلام نے قبول نہ کیا تو پھر ایسی ایجادوں سے کیا فائدہ ہوا۔ پس بموجب اس طریقہ کے جو جناب نے دربارہ نون ثقیلہ ایجاد کیا ہے کوئی عاقل کسی عاقل کو الزام نہیں دے سکتا جب آپ کسی علم میں ترمیم فرماویں گے تو دوسرا بھی ترمیم کرسکتا ہے قولہ اس کا جواب عامہ تفاسیر میں الخ۔ اقول یہ کون کہتا ہے کہ عامہ تفاسیر میں اس کا جواب بطور تاویلات رکیکہ اور توجیہات ضعیفہ کے نہیں لکھا مطلب تو یہ ہے کہ قواعد نحو جو کتب درسیہ نحویہ میں لکھی ہیں۔ قراء ت متواترہ اِنَّ ہٰذَان اس کے خلاف ہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قواعد علوم تابع و خادم قرآن مجید ہیں۔ اور قرآن مجید سب کا متبوع اور مخدوم پس جملہ علوم کو تابع قرآن مجید کا کرنا ضرور ہے نہ برعکس۔ پس بمقابلہ و تعارض قرآن مجید کے کوئی قاعدہ ہو ساقط الاعتبار رہے گا۔ کما مربیانہ قولہ یہ خطا فاحش ہے اقول یہ خطا فاش ہے کیونکہ اِنَّ ھٰذَانِ قراء ت متواترہ کب ہے جو یوں لکھا جاتا کہ بجائے اِنَّ ہٰذَیْنِ کے اِنَّ ہٰذَانِلکھا ہو۔ اور لفظ فاش کو مولوی صاحب نے خلاف محاورہ فرس کے فاحش لکھا ہے یہ خطافاش محاورہ فرس و نیز محاورہ اردو کی ہے قولہ یہ بات اگر قواعد اختلافیہ کی نسبت الخ اقول جو مضارع موکد بہ لام تاکید معہ نون تاکید کے ہووے اس کا استعمال التزاماً خالص استقبال کیلئے ہونا کسی ایک امام نحو نے بھی نہیں لکھا۔ چہ جائیکہ اس پر اجماع ہوگیا ہو۔ ومن ادعی الان فعلیہ البیان اور میزان الصرف وغیرہ کے حاشیہ میں لکھی ہونے سے اجماع ائمہ نحات کا ثابت نہیں ہوسکتا۔لہٰذا آپ کو ضرور ہے کہ اشتہار اس بات کا دیویں کہ خالص استقبال کا مراد ہونا اور وہ بھی التزاماً ہر ایک صیغہ مضارع موکد بلام تاکید و نون تاکید میں جو ہم نے لکھا تھا اور اس کو منسوب با جماع ائمہ نحات کیا تھا وہ خلاف نفس الامر کے اور غیر صحیح تھا ہم نے اس سے رجوع کیا تاکہ کوئی آپ کا معتقد دروازہ الحاد کا نہ کھولنے پاوے۔ قولہ ۱؂ اقول ۔ التفاسیر المعتبرۃ تشھدبھا واللّٰہ الکریم۔ ۲؂ قولہ آپ ان اکابر کا مطلب الخ۔ اقول ۔ آپ ہی ان اکابر مفسرین کا مطلب بالکل نہیں سمجھے فافھم۔ قولہ۔ توضیح المرام سے معلوم ہوتا ہے الخ اقول۔ ایّھا الناظرین ذرا انصاف کرو اور برائے‘ خدا اللہ تعالیٰ سے ڈر کر توضیح المرام کو بھی دیکھو اور ازالۃ الاوہام کو بھی ملاحظہ کرو کہ حضرت اقدس نے کس جگہ پر آیت لیؤمننّ بہ قبل موتہٖ کو وفات مسیح پر قطعی الدلالت یقینی یا صریح الدلالت لکھا ہے جو مولوی صاحب بطور معارضہ کے فرماتے ہیں کہ آپ کی یہ تقریر بادنیٰ تغیر آپ پر منعکس ہوجاتی ہے الخ ہاں البتہ اگر حضرت اقدس آیت لیؤمننّ بہٖ قبل موتہٖ کو وفات مسیح پر قطعی الدلالت فرماتے جیسا کہ مولوی صاحب اس آیہ کو حیات مسیح پر