یا حدؔ یث صحیح سے یا قول صحابی سے ثابت کریں اور اس آیہ کو آپ بھی تو پیش نظر رکھیں کہ ۱؂ قولہ یہ بات بھی آپ کی سراسر مغالطہ دہی پر مبنی ہے الخ۔ اقول جناب نے بغیر سوچے اور تامل کئے اس مغالطہ کو جس کے مسند الیہ آپ ہی ہیں۔ حضرت اقدس کی طرف نسبت کیا ہے بیان اس کا یہ ہے کہ جو علماء عارف باللہ اور مؤید من اللہ ہوتے ہیں وہ بتائید روح القدس جملہ علوم کا استخراج قرآن مجید سے کرسکتے ہیں۔ قال اللّٰہ تعالٰی: ۲؂ ایضاً قال اللّٰہ تعالٰی ۳؂ وایضًا قال اللّٰہ تعالٰی: ۴؂ اور علماء ظاہر کو یہ بات نصیب نہیں ہوسکتی ان کو البتہ اشد احتیاج طرف علوم رسمیہ اور فنون درسیہ کی ہوتی ہے یہ مسئلہ اپنے محل پر ثابت کیا گیا ہے اور کافی و کامل طور پر آیت کے معنے کا کھل جانا اور اس پر اکابر مومنین اہل زبان کی شہادت مل جانا ثابت ہوگیا اب اس کا کوئی اہل علم انکار نہیں کرسکتا اور کوئی قاعدہ نحویہ اجماعیہ آپ نے ایسا بیان نہیں فرمایا جس کا ادھر سے انکار کیا گیا ہو۔ اور نون ثقیلہ کا حال تو آپ کو معلوم ہوچکا اور اب یہ بھی سنا جاتا ہے کہ سابق میں جس قدر شدّ و مدّ سے نون ثقیلہ کی بحث طلبہ کے روبرو بیان فرمایا کرتے تھے اب اس نون ثقیلہ کا نام تک نہیں لیا جاتا۔ مثل مشہور ہے جولۃ غیر الحق ساعۃً وجولۃ الحق الی الساعۃ اور حضرت اقدس نے کسی علم میں آپ سے الزام نہیں کھایا۔ تمام علوم رسمیہ اور فنون درسیہ کے رو سے جناب پر ہی الزام عائد ہوگیا ہے۔ کمامرّ۔ اور ایسی باتیں کرنے سے جو آپکی یہ غرض ہے کہ حضرت اقدس کی ناواقفی علوم درسیہ سے لوگوں پر ثابت کریں یہ غرض ہرگز حاصل نہیں ہوگی۔ کیونکہ علاقہ پنجاب میں سب کو معلوم ہے کہ اوائل عمر میں سب مراحل اور جملہ منازل علوم درسیہ کے بھی آپ طے فرما چکے ہیں اور فی الحقیقت یہ سچ ہے کہ علماء ظاہر کو ان علوم سے چارہ نہیں پھر مع ھٰذا آپ نے جو علماء ظاہر میں سے ہیں ان علوم کو کیوں ترک فرما رکھا ہے۔ پس اگر جناب کو حضرت اقدس سے مباحثہ کرنا ہے تو پہلے ان دو کاموں میں سے ایک کام کیجئے اور اگر ایک بھی آپ قبول نہ کریں گے تو یہ امر اس بات پر محمول ہوگا جس کو آپ حضرت اقدس کی طرف منسوب فرماتے ہیں یا تو ان علوم درسیہ کی اجماعی باتوں کے تسلیم کرنے کا اقرار کیجئے یا بالفعل مناظرہ موقوف کر کے ایک کتاب ایسے قاعدوں کی رائج و شائع کیجئے جیسا نون ثقیلہ کا قاعدہ جناب نے ایجاد فرمایا ہے۔ مگر اسکے ساتھ یہ بھی ہو کہ ان قواعد نو ایجاد کو سب علمائے اسلام