ہو ؔ گی تو سوائے معنے مضارع کے جو دونوں زمانوں حال و استقبال کو شامل ہے۔ اور کیا معنے ہوں گے اور جملہ تفاسیر میں ضمیر قبل موتہٖ کی کتابی کی طرف راجع کی ہے حتّٰی کہ جلالین جو اخصر التفاسیر ہے اس میں بھی اول قول یہی لکھا ہے کہ ضمیر قبل موتہٖ کی کتابی کی طرف راجع ہے پھر اور تفاسیر کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ پھر کوئی اہل علم ایسی بات منہ سے نکال سکتا ہے کہ حال و استمرار کے معنے یہاں پر غلط محض ہیں۔ اور اگر حضرت اقدس نے اس تقدیر پر بھی معنے استقبال کا مراد ہونا ممکن فرمایا ہے تو اس سے یہ کب لازم آتا ہے کہ حال و استمرار کا مراد ہونا باطل ہے ایک وجہ کی امکان صحت سے دوسری وجوہ کا ابطال کیونکر لازم آگیا۔ قولہ بلکہ یہ خروج بقول آپ کے آپ پر لازم آگیا الخ اقول مولانا آپ نے ضرور اس شرط کا خیال و لحاظ نہیں کیا اور حضرت اقدس نے اس شرط کو پورا کردیا کیونکہ نون ثقیلہ کا جو استعمال صحیح صحیح تھا اس کو بھی قرآن مجید سے ہی ثابت کردیا اور جناب نے بمقابلہ قرآن مجید کے غیر کتاب اللہ و سنت رسول کی طرف رجوع کیا اور اقوال اور فہم رجال سے جو خود بموجب آپ کے اقرار کے حجت نہیں استدلال کیا۔ اور ازالہ اوہام کے صفحہ ۶۶ سے جو جناب نے حضرت اقدس کو الزام دیا ہے وہ ٹھیک نہیں ہے بچند وجوہ۔ اما اولاً آنکہ ازالہ اوہام کی تقریر کے وقت آپ کب مخاطب تھے اور فیمابین جناب اور مرزا صاحب کے ازالہ اوہام کی تحریر کے وقت یہ شرط کب ہوئی تھی کہ قال اللّٰہ اور قال الرسول سے باہر نہ جاویں گے۔ یہ شرط تو آپ سے اس مباحثہ میں ہوئی ہے۔ اور ازالہ اوہام جواب ہے سب مخالفین مختلف طبائع کا ہر شخص کو اس کے فہم کے بموجب الزام اور جواب دیا گیا ہے پھر اس مباحثہ میں یہ نقض و اعتراض کیوں کیا جاتا ہے۔ اما ثانیاً آنکہ حضرت اقدس نے ازالہ اوہام کے صفحہ ۶۰۲ میں کس نحوی کے قول سے استناد کیا ہے وہاں پر بھی محاورہ قرآن مجید سے یہ بات ثابت کی ہے کہ قَالَ صیغہ ماضی کا ہے اور اسکے اول میں اِذْ موجود ہے جو تمام محاورات قرآن مجید میں واسطے ماضی کے آتا ہے۔ پس عبارت مندرجہ صفحہ ۶۰۲۔ ازالہ میں غیر اللہ کے کلام سے کب استدلال کیا ہے بیّنوا توجروا۔ مولانا یہی تو حضرت اقدس کا کمال ہے جو دوسرے میں نہیں پایا جاتا کہ ہر ایک مطلب کو قرآن مجید سے ہی استخراج و استنباط فرماتے ہیں صدق اللّٰہ تعالٰی ۱ قولہآپ ایسی باتیں کرتے ہیں الخ اقول یہ تو آپ کا ہی مغالطہ ہے نہ حضرت اقدس کا ورنہ آپ پر لازم ہے کہ جن آیات میں آپ نے معنے استقبال کے لئے ہیں۔ اس استقبال کی تصریح یا تو قرآن مجید سے