ھوؔ الذی یدعی خلاف الظاھر ویثبت الزیادۃ والمدعی علیہ ھو مستصحب الاصل والمتمسک بالظاھر ولا عدل من ان یعتبر فیمن یدعی بینۃ فیمن یتمسک بالظاھر و یدرأ عن نفسہ الیمین اذالم تقم حجۃ الاٰخرو قد اشار النبی صلعم الٰی سبب مشروعیۃ ھذا الاصل حیث قال لویعطی الناس الخ یعنی کان سببا للتظالم فلا بدمن حجۃ انتہٰی۔ ایہاالناظرین اب ملاحظہ فرماؤ کہ جو تعریف اور فلاسفی مدعی ہونے کی حضرت مولانا شاہ ولی اللہ صاحب حکیم امت نے عربی عبارت میں بیان فرمائی اس کا مطلب وہی ہے جو حضرت اقدس نے اردو میں بیان فرمایا یاکچھ اور ہے۔ بَیِّنُوا تُوجرواقولہ پنجم یہ تعریف مدعی کی الخ۔ اقول ہم پہلے ثابت کرچکے کہ رشیدیہ میں قید من حیث انہ اثبات بالدلیل اوالتنبیہاسی بیان کا مجمل ہے جس کو حضرت اقدس نے شرح فرمایا ہے۔ فتذکروا۔ اور عصام الملۃ والدین کی مراد بھی وہی ہے جو رشیدیہ سے ثابت ہوچکی۔ پس جو تعریف مدعی کی حضرت اقدس نے لکھی ہے بالکل مطابق ہے اس تعریف کے جو علم مناظرہ میں لکھی ہے- علاوہ بریں یہ کہ اس مباحثہ میں جناب والا مدعی ہوچکے ہیں۔ مع ھٰذا اندریں صورت حضرت اقدس اس مباحثہ حیات و ممات میں مدعی کیونکر ہوسکتے ہیں۔قولہ آپ نے توضیح المرام اور ازالہ اوہام میں اس امر کا اقرار کیا ہے الخ۔ اقول۔ اگر حضرت اقدس نے بموجب قول ابوالدرداء کے لایفقہ الرجل حتّٰی یجعل للقراٰن وجوھاضمیر قبل موتہ ٖکی طرف حضرت عیسٰی ؑ کے راجع کی ہے تو اس صورت میں آیت کی تفسیر وہ ہو گی جو ازالۃ الاوہام میں لکھی ہے اُس کو ملاحظہ فرمائیے پھر آپ کا مدعا ہر طرح پر کیونکر ثابت ہو گا۔ یہ کیا ضرور ہے کہ درصورت ارجاع ضمیر موتہٖ کی طرف حضرت عیسیٰ ؑ کے وہی معنے ہوں جو آپ کے نزدیک ہیں۔ غایۃ الامریہ ہے کہ اس صورت میں جو معنے مورد اعتراض آپ کرتے ہیں وہ بھی ایک احتمال ضعیف کے طور پر ہوسکتے ہیں اندریں صورت آپ کے معنے قطعی کیونکر ہوجاویں گے اذاجاء الاحتمال بَطَلَ الاستدلالمثل مشہور و مقبول ہے۔ باقی جناب کے کل قول کا جواب شافی و کافی حضرت اقدس نے ایسا دیا ہے کہ خوبی اُس کی انصاف ناظرین منصفین پر موقوف ہے مگر اس کا کیا علاج ہے کہ نہ آپ اس کو قبول کریں اور نہ جواب شافی دیں۔ قولہ۔ خود آیت وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ۱۔ الخ۔ اقول ہرگز ہرگز صریح نہیں بلکہ ذوالوجوہ ہے کمامر بیانہ قولہ رہی یہ بات کہ بعض مفسرین نے الخ۔ اقول یہ التباس حق کا ساتھ غیر حق کے کیا گیا ہے۔ کیونکہ جب ضمیر قبل موتہٖکی کتابی کی طرف راجع