قرآؔ نیہ قطعی طور سے وفات مسیح پر دلالت کرتی ہیں۔ اور جو فساد اس شق پر بیان کیا گیا ہے اسکی نسبت ہم بھی مولوی صاحب سے یہاں پر صرف ایک سوال کرتے ہیں تاکہ طول لازم نہ آوے جو اس سوال کا جواب مولوی صاحب دیویں وہی جواب حضرت اقدس مرزا صاحب کی طرف سے تصور فرماویں۔ سوال یہ ہے کہ قرآنیّت ہر دو سورتوں معوّذ تین کی قطعی طور پر آپ کے نزدیک ثابت ہے یا نہیں برتقدیر ثانی آپ اس کا اشتہار دیں کہ میرے نزدیک یعنی مولوی صاحب کے نزدیک معوّ ذ تین قطعی قرآن نہیں ہیں اور بصورت ِ شک اول لازم آتا ہے کہ آپ کے نزدیک وہ صحابہ جنہوں نے ان ہر دو سورتوں کے قرآن ہونے کا انکار کیا تھا نعوذ باللہ کافر ہوں۔ کیونکہ منکر قرآن متواتر کا جو قطعی اور یقینی ہے کافر ہوتا ہے فماھو جوابکم عنہ فھو جوابنا۔قولہ چہارم آپ نے جو تعریف مدعی کی بیان کی ہے الخ اقولتعریف مدعی کی حضرت صاحب نے محض اپنی رائے سے نہیں بیان کی بلکہ فقہاء اور محدثین اور نظار جو تعریف مدعی کی بموجب اپنی اپنی اصطلاح کے کرتے ہیں اس کی تشریح اور توضیح بطور سِرّ اور گُر کے بیان کی ہے اور قرآن مجید سے بھی مستنبط ہے وکیف لا ؂ وکل العلم فی القرآن لٰکِن تقاصر عنہ افہام الرجال اس مقام پر مولاناصاحب نے کتاب الاقضیہ والشہادات کتب حدیث کو اور کتاب الدعویٰ کتب فقہ کو اور تمام آیات مخاصمہ و آیت مداینہ قرآن مجید کو غور و امعان سے نظر نہیں فرمایا جو ایسا کچھ فرماتے ہیں کہ یہ نہ سہی کوئی قول کسی صحابی یا تابعی یا کسی مجتہدیا کسی محدث یا فقیہ کا اسکے ثبوت کیلئے پیش کیجئے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ اگر مولوی صاحب کا اس فرمانے سے یہ مطلب ہے کہ جس عبارت اردو میں حضرت اقدس نے تعریف مدعی کی بیان کی ہے وہ کہیں مذکور نہیں تو البتہ یہ فرمانا مولانا صاحب کا کسی قدر درست اور راست ہے فی الحقیقت یہ عبارت اردو کی جو حضرت اقدس ؑ نے تعریف مدعی میں بیان کی نہ قرآن مجید میں مذکور ہے اور نہ کسی حدیث میں اور نہ کتب فقہ عربیہ میں کہیں لکھی ہے کیونکہ وہ عربی زبان میں ہیں اور بعینہا یہ الفاظ تو شائد کسی کتاب فقہ اردو میں بھی نہ نکلیں گے۔ لیکن اس بنا پر تو جناب مولوی صاحب کا سب وعظ و پند جو اردو میں ہوا کرتا ہے وہ بھی کہیں مذکور نہیں اندریں صورت وہ سب وعظ و پند محض رائے جناب کی ہوئی جاتی ہے ماھوجوابکم فھو جوابنااور اگر یہ مطلب نہیں صرف مطلب سے مطلب ہے تو لیجئے زیادہ طوالت تو اس تحریر مختصر میں کیا کی جاوے صرف بحوالہ حجت اللہ مولانا شاہ ولی اللہ صاحب ایک حدیث کی شرح لکھے دیتا ہوں۔ قال صلعم لویعطی الناس بدعواھم لادعی الناس دماء رجال واموالھم ولکن البینۃ للمدعی والیمین علی المدعی علیہ فالمدعی