قوؔ لہ اول یہ کہ آپ قبل ادعائے مسیحیت براہین احمدیہ میں اقرار حیات مسیح کا کرچکے ہیں الخ۔ اقول۔ ادعائے مسیحیت بطور روحانی براہین احمدیہ میں بھی موجود ہے اور ازالہ اوہام وغیرہ میں بھی وہی دعویٰ ہے کوئی دعویٰ جدید نہیں۔ آگے رہا اقرار حیات مسیح سو وہ بطور منطوق کے براہین میں نہیں لکھا گیا۔ ہاں البتہ مسیح کا دوبارہ دنیا میں آنا لکھا ہے جس سے حیات مسیح بطور مفہوم کے لازم آتی ہے اور یہ مسئلہ مقررہ علم اصول کا ہے کہ لازم القول یا لازم المذہب کا مذہب ہونا ضروری نہیں۔ معہذا اس سے جناب کو کیا فائدہ ہوا۔ کیونکہ مانا کہ حضرت مرزا صاحب کو حیات مسیح کا اقرار تھا۔ لیکن جب کہ بسبب عدم وجدان دلیل کے حیات مسیح پر حضرت مرزا صاحب حیات مسیح سے دستبردار ہوگئے اور دعویٰ حیات ثابت نہ ہوا تو وفات مسیح خودبخود ثابت ہوگئی کیونکہ حیات و وفات میں کوئی واسطہ نہیں ہے۔ مگر اس صورت میں بار ثبوت حضرت کے ذمہ کہاں رہا۔قولہ ۔ خاکسار ایک سوال کرتا ہے الیٰ آخرہ۔ اقول۔ مولانا صاحب نے اس جگہ پر بہت سی شقوق بطور منطقین کے جاری فرمائیں۔ مگر دانست ناقص میں طول عبث کیا ہے۔ لہٰذا جواب اس کا مختصر لکھا جاتاہے۔ اول ہم اس شق کو اختیار کرتے ہیں کہ خیال حیات مسیح بعد اس الہام کے پیدا ہوا ہے اور تسلیم کیا کہ الہام سے پہلے اس خیال سے کچھ واسطہ نہ تھامگر اس جدت سے حضرت مرزا صاحب ایسے مدعی نہیں ہوسکتے جس کے ذمہ بار ثبوت ہو تقریر اس کی وہی ہے کہ حضرت نے حیات پر کوئی دلیل اور ثبوت نہ پایا تو اس دعوے یا اقرار سے دستبردار ہوئے اور جب کہ اقرار حیات سے دستبردار ہوئے۔ تو بجز وفات کے اور کچھ نہیں ہے کیونکہ اجتماع الضدّ ین و ارتفاع الضدین محالات سے ہے پس اس تقریر سے کسی طرح پر بار ثبوت حضرت اقدس کے ذمہ نہیں ہوا اور وفات خود بخود ثابت ہوگئی۔ اب ہم اس شق کو بھی اختیار کرتے ہیں کہ قبل الہام سے بھی یہ خیال وفات تھا مگر اس کا یقین نہیں تھا اور بعد الہام کے یقین وفات ہوگیا اور یہ بھی تسلیم کر لیا کہ مفید یقین اس وقت میں الہام ہوا جس کی تائید نصوص نے بھی کی۔ اور اس وجہ سے کہ اکثر لوگوں کو ملہم ہونا حضرت اقدس کا پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچا اور ان کیلئے الہام حجت بھی نہیں تھا لہٰذا حضرت اقدس نے سنت اللہ وآیات قرآن مجید سے اس یقین کو ثابت کردکھایا تاکہ مخالفین اور منکرین الہام پر بھی حجت ہوجاوے اب مخالفین کو لازم ہے کہ یا تو ان نصوص و آیات کا جواب شافی دیویں ورنہ وفات مسیح کو تسلیم کریں پھر بعد تسلیم وفات مسیح کے مسیح موعود ہونے کی بحث ہوسکتی ہے قولہ سوم اس مقام پر نصوص قرآنیہ قطعی طور پر الخ۔ اقول یہاں پر بھی دوشقیں منطقین کے طور پر جاری فرمائی گئی ہیں لیکن حاصل ان کا کچھ بھی نہیں معلوم ہوتا۔ ہم اس شق کو اختیار کرتے ہیں کہ نصوص