مطلقہؔ اس مقید پر محمول کی جاویں گی کیونکہ قاعدہ مجمع علیہ علم اصول کا ہے کہ مطلق مقید پر محمول ہوا کرتا ہے ارشاد الفحول میں لکھا ہے جس کی تلخیص حضرت نواب صاحب بہادر مرحوم ومغفور نے ان الفاظ سے کی ہے ۔الثانی ان یتفقا فی السبب والحکم فیحمل احدھما علی الاٰخر اتفاقا وبہ قال ابوحنیفۃ ور جح ابن الحاجب وغیرہ ان ھذا الحمل ھو بیان للمطلق ای دال علٰی ان المراد بالمطلق ھوالمقید وقیل انہ یکون نسخا والاول اولٰی و ظاھراطلاقھم عدم الفرق بین ان یکون المطلق متقدما اومتأخرا اوجہل السابق فانہ یتعین الحمل۔اور اگر کوئی کہے کہ مسیح بن مریم پر تعریف مطلق کی کب صادق آتی ہے جو اس میں تقید جاری ہو تو جواب اس کا یہ ہے کہ حضرت اقدس نے ازالہ میں اور نیز اخیر پرچہ ثالث میں اس بات کو بخوبی ثابت کردیا ہے کہ احادیث میں جو مسیح بن مریم مذکور ہے اس سے مراد مثیل مسیح ہے نہ عین عیسٰی بن مریم۔ چنانچہ آخر پرچہ ثالث میں تحریر فرماتے ہیں کہ اطلاق اسم الشیء علٰی مایشابھہ فی اکثر خواصہ وصفاتہ جائز حسن تفسیر کبیر صفحہ ۶۸۹۔ اور ظاہر ہے کہ لفظ مثیل مسیح کے مطلق ہونے میں کچھ شک نہیں جس کی تقئید ساتھ منکم کے احادیث متفق علیہ سے ثابت ہوچکی اور جس قدر احادیث مطلقہ واقع ہیں وہ سب محمول اس مقید پر ہوگئیں فیصلہ شد + اب ایک خواب جو مولانا صاحب نے دیکھا ہے اور وہ بشری ہے واسطے اطلاع و آگہی ناظرین کے لکھا جاتا ہے تاکہ مولانا صاحب اس مباحثہ میں اس خواب کی تعبیر کو بھی ملحوظ نظر رکھیں۔
خواب مولانا محمدؐ بشیر صاحب
بتاریخ ۱۶۔ ربیع الثانی مولوی عبدالکریم صاحب ساکن پاترہ نے ہیچمدان سے بیان کیا کہ مولانا محمدؐ بشیر صاحب نے خواب ذیل کو مجھ سے بیان کیا ۔کہ اندر مکان کے میں کھانا کھا رہا ہوں اور جسم پر لباس کسی قدرنہیں ہے اس اثناء میں معلوم ہوا کہ ڈپٹی امداد علی صاحب مرحوم آئے ہیں میں نے چاہا کہ ان کا استقبال مکان کے باہر سے ہی کروں۔ استقبال کے واسطے باہرکو آیا تو دیکھا کہ ڈپٹی صاحب ممدوح دروازہ صدرسے اندر آگئے ہیں میں نے معانقہ کرنے کا قصد کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم سے کیا معانقہ کریں تمہاری حالت وہیئت توجنوں کی سی ہورہی ہے۔ میں نے چاہا کہ کچھ جواب اس کا دوں لیکن ان کے لحاظ سے کچھ جواب نہیں دیا اور صرف یہ کہا کہ ہم سے قصور ہوامعاف کیجئے پھر ڈپٹی صاحب سے معانقہ ہوگیا فقط تعبیر اس خواب کی یہ احقر کچھ نہیں دیتا مولوی صاحب اس خواب کے مضمون پر خود غور فرماویں وبس۔ والعاقل تَکْفِیْہِ الاِشَارۃ۔