فاؔ مکم منکم بھی ہے جو سب احتمالات کو قطع کرتا ہے کمامرّ سابقا قولہ اس حدیث کو قطعی الدلالت نہیں کہا گیا صرف تائید کیلئے لائی گئی ہے اقول جب کہ اس حدیث کی معارض احادیث متفق علیہ موجود ہیں تو پھر یہ حدیث بمقابلہ احادیث متفق علیہ کے ساقط رہے گی پھر تائید کے کیا معنے۔ خصوصاً اس حالت میں کہ در صورت عدم مخالفت و تعارض احادیث متفق علیہ کے بھی فی نفسہ وہ حجت نہیں ہوسکتی ہے۔ کمامرّ قولہ آپ وہ حدیث صحیح مرفوع متصل الخ۔اقول۔ آپ ملاحظہ فرمایئے ازالہ اوہام اور نیز جو اس میں افادات البخاری لکھے ہیں ان کو مطالعہ فرمایئے تاکہ مخالفت تعلیم قرآن بھی ثابت ہوجاوے۔ وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَلٰمِیْنَ الَّذِیْ ھَدَانَا لِھٰذَا وَمَا کُنَّا لِنَھْتَدِیَ لَوْلَا اَنْ ھَدٰنَا اللّٰہُ
تمّت
مولوی محمد بشیر صاحب کے پرچہ ثالث پر سرسری نظر
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَصَلّی اللّٰہ عَلٰی سَیِّدِنَا محمّد واٰلہٖ وَاصْحَابِہٖ اجْمَعِیْن وَ حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ نِعْمَ الْمَوْلٰی وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ۔ امابعد واضح خاطر عاطر ناظرین منصفین ہو کہ پرچہائے ثلاثہ مولوی صاحب کے جوابات حضرت اقدس مرزا صاحب کی طرف سے ایسے شافی و کافی دیئے گئے ہیں کہ اب حاجت جواب دینے کی باقی نہیں رہی کیونکہ مولانا صاحب نے اس پرچہ ثالث میں بھی اعادہ انہیں ابحاث کا کیا ہے جن کا جواب حضرت اقدس کی طرف سے مکرر ہوچکا لیکن چونکہ مولوی صاحب کی طرف سے مکررسہ کرر درخواست مباحثہ از ہیچمدان اس اقرار سے واقع ہوئی کہ اگر مجھ کو اس مسئلہ متنازعہ فیہا کا حق ہونا اب بھی ثابت ہوجاوے گا تو میں بالضرور قبول کر لوں گا۔ لہٰذا ادھر سے بھی اظہار اللحق والصواب جو ابہائے شافی و کافی بامید مضمون اذا تکرر تقرر کر کے مکررسہ کرردیئے جاتے ہیں شائد کہ مولانا صاحب حسب اقرار خود اس حق کو قبول فرمالیں۔ اول میں ان تمام احادیث کا فیصلہ قطعی مجملاً چند سطور میں کرنا چاہتا ہوں جو اس وقت بعض سائلین نے پیش کی ہیں بعدہٗ جواب بطور قولہ و اقول کے اس پرچہ ثالث کا لکھا جاوے گا۔ فیصلہ بعض احادیث متفق علیہ دربارہ نزول مسیح بن مریم ساتھ قید منکم کے وارد ہیں چنانچہ وامامکم منکم اور صحیح مسلم میں فامّکم منکم یعنی امّکم بکتاب اللّٰہ و سنۃ رسولہ۔ اب جس قدر احادیث کہ اس قید سے مطلق آئی ہیں خواہ ہزاروں ہی ہوں وہ سب احادیث