تعارؔ ض ہوا کرتاہے لہٰذا واسطے توفیق کے عام کو عام مخصوص البعض کر لیا کرتے ہیں۔ اور و اضح ہو کہ تعارض کے واسطے یہ بھی شرط ہے کہ ہر دواَدِلّہ بہمہ وجوہ درجہ مساوی پر ہوں یہ مسئلہ بھی کتب اصول میں مبین ہے۔ پس اب گذارش یہ ہے کہ آیت لیؤمنن بہ قبل موتہٖ بچندوجوہ ذوالوجوہ ٹھہر چکی ہے تو اندریں صورت کیونکر مخصص ہوسکتی ہے اُس آیہ کے جو ذوالوجوہ نہیں یعنے مثلاً یہ آیت ۱ ا ور اگر تخصیص بھی مابین ان دونوں آیتوں کے تسلیم کی جاوے تو چونکہ آیت وان من اھل الکتبعام تھی اور آپ بھی اسکے عموم کے واسطے ایک زمانہ کے قائل ہیں اور آیت وغیرہ کا مخصوص خاص ہے کہ الخاص مادل علی کثرۃ مخصوصۃ اندریں صورت خاص یعنی آیت ثانی عام یعنے آیت اول کی مخصوص ہووے گی نہ برعکس کہ عکس القضیہ ہوا جاتاہے کمامرّ۔قولہ اسی واسطے اس آیہ کو قطعی الدلالۃ لذاتہا نہیں کہا گیا۔ اقول جب کہ جناب والا بسبب ذوالوجوہ ہونیکے آیت ۲ کو قطعی الدلالت لذاتھا نہیں کہتے تو پھر آیت لیؤمننّ بہ قبل موتہٖ کو کیوں قطعی الدلالت فرماتے ہو کیونکہ آیت لیومنن بہ قبل موتہ بہ نسبت لفظ کہل کے زیادہ تر ذوالوجوہ ہے اول تو ضمیر بِہٖ میں روایتاً و درایتاً بہت سا کچھ اختلاف ہے پھر ضمیر قبل موتہ میں اختلاف کثیر ہے پھر لفظ اہل کتاب میں بھی بہت اختلاف ہے پھر یہ آیت کیونکر قطعی الدلالت ہوگئی اور وہ نہ ہوئی لان ھذا ترجیح بلا مرجّح۔ اور دلیل کی دو قسمیں جو باعتبار دلالت کے آپ کرتے ہیں۔ ایک قطعی الدلالت فی نفسہا اور دوسری قطعی الدلالت لغیرہا یہ ایک اصطلاح جدید ہے جو دوسرے پر حجت نہیں کمامرّ غیر مرّۃ۔قولہ مسلّم ہے کہ آیت اِنِّی مُتَوَفِّیْک الخ اقول آپ خود قسطلانی سے نقل فرما چکے ہیں کہ التوفّی اخذالشیء وافیا والموت نوع منہ اسی سے معلوم ہوا کہ موت میں بھی اخذ شیء وافیا ہوا کرتا ہے کیونکہ والموت نوع منہ۔قولہ آپ کو نزول عین عیسیٰ بن مریم سے الخ اقول مولانا مجھ کو یہ افسوس آتا ہے کہ آپ ہمیشہ وعدہ فرمایا کرتے تھے کہ میں اگر مباحثہ کروں گا۔ توبعد دیکھنے تمام ازالہ اوہام کے لیکن افسوس یہ ہے کہ آپ نے ازالہ اوہام کو اول سے آخر تک مطالعہ نہ فرمایا۔ سرسری طور پر دو ایک مقام دیکھ لئے اور مباحثہ قائم کر لیا۔ جسکا انجام یہ ہواکہ بہت سے امور کی بحث آپکی جانب سے ایک تکرار بے سود رہی۔ ازالہ اوہام اگر آپ مطالعہ فرماویں تو جناب کو صدہا صوارف ایسے قوی مل جاویں کہ معنے حقیقی ابن مریم کے ان صوارف کی وجہ سے ہرگز نہیں لے سکتے۔ مثلاً ایک صارف یہ ہیچمدان سابق لکھ چکا کہ خود صحیحین کی حدیث میں اس مسیح بن مریم کی صفت وامامکم منکمواقع ہوا اور صحیح مسلم میں باسانید صحیحہ