شراؔ ر الناس پر اس وقت سے قیامت قائم ہوجاوے چنانچہ اس درایت کی روایت صحیح بھی مؤید ہے۔ ثم یبعث اللّٰہ ریحاطیبۃً فتوفی کل من فی قلبہ مثقال حبۃ من خردل من ایمان فیبقی من لاخیر فیہ فیرجعون الی دین اٰبآءھم۔ رواہ مسلم پس آیت سے تو یہ معلوم ہوا کہ مومنین متبعین کا وجود جب تک دنیا میں رہے گا قیامت تک ساتھ غلبہ کے رہے گا اور کافر مغلوب رہیں گے اور جب کہ مومنین متبعین کو اللہ تعالیٰ اپنی طرف اٹھا لے گا تب اس وقت سے بقیہ شر ذمہ کفار پر قیامت قائم ہوگی۔ پس ثابت ہوگیا کہ وجود کفار بھی اِلیٰ یوم القیامہ رہے گا۔ جن پر قیامت قائم ہوگی اور وجود مومنین متبعین بھی جو کفار پر وقت قیام قیامت غالب رہیں گے رہے گا اور نزدیک قیام قیامت کے کچھ قبل اسکے ریح طیّبہ سے مومنین اٹھائے جاویں گے اس میں کوئی تناقض نہیں۔ ثانیاً یہ گذارش ہے کہ سلّمنا کہ آیت عام مخصوص البعض ہے اور احادیث صحیحہ مثل لا تقوم الساعۃ الاعلی شرار الخلق وغیرہ اس کی مخصص ہیں لیکن چونکہ آیت مستغرق تھی کل افراد زمانوں کے واسطے اور حدیث خاص ہے واسطے وقت قیام ساعت کے پس یہ احادیث خاص اس آیت عام کی مخصص ہوگئیں لیکن اس تخصیص سے مدعا کو کیا فائدہ ہوا مانا کہ آیت مخصوص البعض ہے لیکن بعد اس تخصیص کے بقیہ افراد ازمنہ کو جس میں مسیح بن مریم کا زمانہ بھی داخل ہے شامل رہے گی ااور شمول و عموم اس کا زمانہ مسیح بن مریم کے واسطے حجت رہے گا کتب اصول میں یہ مسئلہ مصرح کیا گیاہے حصول المأمول مؤلفہ حضرت نواب صاحب بہادر مرحوم و مغفور کی عبارت یہاں پر نقل کی جاتی ہے۔ واما اذا کان التخصیص بمبین فقداختلفوا فی ذلک علی اقوال ثمانیۃ منھا انہ حجۃ فی الباقی والیہ ذھب الجمھور واختارہ الامدی وابن الحاجب وغیرھما من محققی المتأخرین وھو الحق الذی لا شک فیہ ولاشبھۃ لان اللفظ العام کان متناولا للکل فیکون حجۃ علٰی کل واحد من اقسام ذالک الکل و نحن نعلم بالضرورۃ ان نسبۃ اللفظ اِلٰی کل الاقسام علی السویۃ فاخراج البعض منھا بمخصص لا یقتضی اھمال دلالہ اللفظ علی مابقی ولا یرفع التعبد بہ وقد ثبت عن سلف ھذہ الامۃ ومن بعدھم الاستدلال بالعمومات المخصوصۃ وشاع ذٰلک وذاع وقد قیل انہ مامن عموم الاوقد خص وانہ لایوجد عام غیر مخصوص فلو قلنا انہ غیر حجۃ فی مابقی للزم ابطال کل عموم و نحن نعلم ان غالب ھذہ الشریعۃ المطھرۃ انما تثبت بعمومات۔ پس اس تخصیص سے کہاں ثابت ہوتا ہے وہ دعویٰ کہ مسیح بن مریم کے وقت میں سب اہل ملل و نحل اسلام میں داخل ہوجاویں گے قولہ یہ آیت بھی عام مخصوص البعض ہے الخ اقول حسب قواعد علم اصول فقہ کے جو عام و خاص میں بظاہر ایک قسم کا