آجاؔ وے کہ یہاں پر تخصیص مطلوب مولوی صاحب کی جاری نہیں ہوسکتی۔ ارشاد الفحول میں لکھا ہے ۔ وفی الاصطلاح العام ھو اللفظ المستغرق لجمیع مایصلح لہ بحسب وضع واحد دفعۃ والخاص ھواللفظ الدال علی مسمی واحداعم من ان یکون فردًا اونوعًا اوصنفا و قیل ما دل علی کثرۃ مخصوصۃ ومن الفروق بین النسخ والتخصیص ان التخصیص لا یکون الا لبعض الافراد و النسخ یکون لکلھا۔ اب گذارش یہ ہے کہ آیات بینات سے بطور اخبار کے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہر زمانہ میں قیامت تک کچھ نہ کچھ کافربھی موجود رہیں گے۔ قال اللّٰہ تعالی ۱؂ ایضًا قال۔ ۲؂ اب باوجود اس اخباراللہ تعالیٰ کے آپ یہ فرماتے ہیں کہ وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ میں صاف وعدہ ہے کہ قبل موت حضرت عیسٰی ؑ کے سب اہل کتاب مومن ہوجاویں گے۔ اور یہ آیت مخصص واقع ہوئی ہے ان آیات بینات کی۔ مولانا صاحب اگر آپ ان دونوں آیتوں میں واسطے توفیق مفاہیم مختلفہ کے تخصیص کے قائل ہیں تو ظاہر یہ ہے کہ جناب کے معنے عام ہیں العام ھو اللفظ المستغرق لجمیع ما یصلح لہ الخ۔ اور مفہوم الآیہ کا خاص ہے کہ الخاص مادل علی کثرۃ مخصوصۃ او کما قیل پس بموجب فروق مذکورہ بالا کے مفہوم آیت الآیہ کا جو خاص ہے آپ کے معنے عام کا مخصص ہوسکتا ہے نہ برعکس لان التخصیص لایکون الالبعض الا فرادلیکن اندریں صورت اس تخصیص سے کوئی فائدہ مترتب نہیں ہوتا کیونکہ اس تخصیص کا مطلب یہ ہوا کہ آئندہ ایک خاص زمانہ میں بعض اہل کتاب ایمان لے آویں گے حالانکہ بعض اہل کتاب تو ہر زمانہ میں ایمان لائے ہوئے ہیں۔ علاوہ یہ کہ اگر اسکے برعکس تخصیص مانی جاوے تو وہ نسخ ہوا جاتا ہے تخصیص نہیں رہتی اور نسخ اخبار میں عند الاصولیین درست نہیں ہے۔ ایہا الناظرین مولوی صاحب نے اس مسئلہ میں غور نہیں فرمایا اس واسطے اشتباہ والتباس واقع ہوگیا کہ جو آیت خاص تھی اور مخصص ہوسکتی تھی اس کو عام قرار دے دیا اور جو آیت کہ عام تھی اس کو خاص یا مخصوص فرما دیا۔ فتأملوا وانظروا واعتبروا یااولی الابصار۔ قولہ دوم احادیث صحیح سے ثابت ہے الخ۔ اقول۔ مولوی صاحب آیت کا تو یہ مفہوم ہے کہ مومنین متبعین قیامت تک فائق رہیں گے اور کافر قیامت تک مغلوب رہیں گے اور مضمون احادیث کا یہ ہے کہ وقت قیام قیامت کے سب شر یر رہ جاویں گے ان دونوں مفہوموں میں کسی طرح کا تعارض نہیں معلوم ہوتا جو تخصیص یانسخ کے طور پر ان دونوں مفہوموں میں توفیق کی جاوے۔ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ دفعۃً واحدۃ جملہ مومنین متبعین کو اللہ تعالیٰ اپنی طرف اٹھالے اور بقیہ