تھکؔ جاوے اور پھر مع ھٰذا اس تخصیص در تخصیص کا نام پورا حصر رکھا جاوے پورے حصر کے معنے تو استغراق جمیع افراد سے حاصل ہوتے ہیں نہ تخصیص در تخصیص سے یہ بھی ایک اصطلاح جدید علم اصول فقہ کی جناب نے پیدا کی ہے ۱؂ قولہ بلکہ یہ تو مقتضی نون ثقیلہ و لفظ بعد موتہ کا ہے جو کلام الٰہی میں واقع ہوا ہے الخ۔ اقول مولانا اب تو سرے سے مقتضی ہی نہ رہا۔ پھر مقتضی کہاں ہوسکتا ہے اور پھر یہ کیونکر ہوسکے گا کہ اِدھر تو الفاظ عموم در عموم کے بیان کئے جاویں اور اُدھر خصوص در خصوص مراد ہو یہ تو تناقض ہوا جاتا ہے وتعالٰی کلام اللّٰہ عن ذٰلک علوًّا کبیرًا۔واضح ہو کہ مولوی صاحب کی عبارت میں لفظ بعد موتہٖ غلط لکھا گیا ہے قرآن مجید میں قبل موتہٖ ہے اور چونکہ لفظ احد کامل درجہ کا نکرہ ہے لہٰذا اس کی نفی حسب قواعد نحو و علم بلاغت کے بحرف اِنْ کامل استغراق کو ہوگی جو جناب کے مدعا کے مخالف ہیقولہ اور ایسا ہی ان کا یہ فرماناالخ۔ اقول مولانا صاحب ظاہر ہے کہ آیت۲؂ واسطے حیات مسیح کے مسوق نہیں ہے جو حیات میں نص ہو بلکہ حیات کا تو اس میں ذکر بھی نہیں موت کا ہی ذکر ہے پس جناب کا استدلال کرنا اس آیہ سے بطور اشارۃ النص وغیرہ کے ہوگا۔ پس جملہ اہل کتاب کا ایمان لانا قبل موت مسیح بن مریم کے آپ کے استدلال کا ایک مقدمہ ہوا اور اس مقدمہ کی نسبت اب آپ ایسا کچھ ارشاد فرماتے ہیں کہ اس مقام پر نہ میں مدعی ان کے ایمان کا ہوں اور نہ مدعی اس امر کا کہ مراد ایمان سے یقین ہے مقصود اس مقام پر صرف رفع تناقض ہے جو آپ نے درمیان آیت و احادیث کے سمجھا ہے۔ فقط اقول مولانا یہ تو سب آپ کی دلیل کے مقدمات تھے جب کہ اثبات مقدمات اپنی دلیل سے دست بردار ہوگئے تو پھر دلیل دلیل کب قائم رہ سکتی ہے کیونکہ دلیل موقوف اثبات مقدمات پر ہوتی ہے مثل ثبت العرش ثم انقش۔ اور رفع تناقض اگر منظور تھا تو ایسی وجوہ سے رفع فرمایا جاتا جس میں اور مفاسد پیدا نہ ہوتے۔ یہاں پر تو آپ کی رفع تناقض سے اور مفاسد پیدا ہوگئے حتیّٰ کہ بسبب انہیں مفاسد کے آپ خود اثبات مقدمات دلیل اپنی سے دست بردار ہوگئے پھر دلیل کیونکر دلیل باقی رہی کہ المقدمۃ ما یتوقف علیہ صحۃ الدلیل اعم من ان یکون جزءً ا من الدلیل ام لا۔ اب آپ ہی انصاف سے فرمایئے کہ آپ جو اس جگہ ہیچمدان اور حکیم نور الدین صاحب کو حَکَمْ تسلیم کرتے ہیں تو اب یہ ہیچمدان اور حکیم نور الدین کیا فیصلہ کریں گے بجز اسکے کہ جو آپ نے خود ارشاد فرما دیا اور اپنے مقدمہ دلیل سے دستبردار ہوگئے۔ پس دلیل بھی دلیل نہ رہی۔قولہ اول یہ کہ آیت وَاِنْ مّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ میں صاف وعدہ ہے الخ اقول مولوی صاحب نے مسئلہ نسخ اور تخصیص میں خلط ملط کردیا لہٰذا اولاً یہ ہیچمدان تعریف عام و خاص کی اور جو تخصیص و نسخ میں فرق ہے علم اصول سے لکھتا ہے تاکہ ناظرین کی سمجھ میں بخوبی