بماؔ اولن اولم اولیس اولا مفیدۃ للعموم۔ والنکرۃ المنفیۃ ادلّ علی العموم منہا اذا کانت فی سباق النفی۔ والصفی الھندی قدم النکرۃ علی الکل یعنی علی کل صیغۃ العام اور طرق قصر سے طریق نفی واستثناء بھی اس میں موجود ہے جو ایک مسئلہ علم بلاغت کا ہے۔ پس ایسے لفظ عام کوجس میں اس قدر عموم در عموم مراد الٰہی ہے ایک شر ذمہ قلیلہ اہل کتاب کے ساتھ بلاوجودمخصص کے مخصوص کرنا کوئی وجہ نہیں رکھتا اگر یہ عموم مراد الٰہی نہ ہوتا تو کلام مجید جو بلاغت میں حد اعلیٰ اعجاز کو پہنچ گیا ہے ایسے خاص معنے و مراد کو ایسے الفاظ عامہ سے بیان نہ فرماتا اور ابومالک کے قول کی توجیہ جو جناب فرماتے ہیں وہ مصداق ہے توجیہ القول بمالا یرضی بہ قائلہ کے۔ کیونکہ الفاظ قول ابو مالک کے یہ ہیں ذلک عند نزول عیسٰی بن مریم علیہ السلام لایبقی احد من اھل الکتب الا امن بہ۔ اس قول میں تو تصریح ہے۔ عند نزول کی یعنے نزدیک وقت نزول کے جملہ اہل کتاب ایمان لے آویں گے۔ جناب ذرہ غور سے ملاحظہ فرماویں۔ قولہ حاصل میری کلام کا یہ ہے الخ اقول جب کہ آیت سے جناب کے نزدیک یہ نہیں ثابت ہوتا کہ مسیح کے نزول کے بعد فوراً سب اہل کتاب ایمان لے آویں گے تو پھر یہ قول ابو مالک کا آپ نے واسطے احتجاج اپنے مدعا کے کیوں نقل فرمایا ہے۔ کہ ذٰلک عند نزول عیسی بن مریم علیہ السلام اور ایسے زمانہ کا آنا جس میں بسیط الارض پر کوئی کافر نہ رہے آیات بیّنات قرآن مجید کی جو سابق مذکور ہوئیں اس کو رد کررہی ہیں قولہ دوم یہ کہ الخ اقول جب کہ ایمان سے مراد ایمان شرعی نہیں بلکہ یقین مراد ہے تو پھر کہاں گیا وہ دعویٰ کہ جملہ اہل ملل و نحل عیسیٰ بن مریم کے وقت میں اسلام میں داخل ہوجاویں گے اور دفع تعارض جو کیا کرتے ہیں تو ایسی وجوہ سے کہ مناقض مدعا نہ ہوں وہ کیا دفع تعارض ہوا کہ جس سے اور مفاسد دیگر پیدا ہوجاویں دفع تعارض کے واسطے آپ کہاں سے کہاں چلے جاتے ہیں ذرہ غورکر کے دفع تعارض فرمایا کیجئے قولہ جس زمانہ کیلئے یہ حصر کیا گیا ہے الخ۔ اقول مولانا بحث تو اس میں ہے کہ جو لفظ ایسا عام ہو کہ جس کا عموم کئی وجوہ سے بیان کیا گیا ہو۔کما مربیانہ وہ عام تمام اپنے افراد کو شامل ہوتا ہے جب تک کہ کوئی مخصص اس کا پیدا نہ ہو یہاں پر صرف ایک نون ثقیلہ پیدا ہوا تھا اگر وہ خفیفہ نہ ہوجاتا تو شاید کسی وجہ سے کسی قدر تخصیص حاصل ہوسکتی مگر اس نون ثقیلہ کی کیفیت خفت معلوم ہوچکی تو اب کوئی بھی مخصص باقی نہ رہا۔ پس اندریں صورت تخصیص کی کیا وجہ ہے کہ مراد تو ہوں ایک زمانہ نامعلوم کے اہل کتاب اور ان کو ایسے صیغہ عام در عام سے بیان فرمایا جاوے۔ حصول المامول میں لکھا ہے ولاشک ان الاصل عدم التخصیص پس ایسی تخصیص کی کیا وجہ ہے کہ مخاطب تخصیص کرتے کرتے بھی