مگرؔ ثانیاً آپ جو فرماتے ہیں کہ اس کا ردّ منوط ہوگا۔ قولہ امر آخر پر جس کا ذکر اوپر ہوچکاالخ۔ اقول اس رد کا جواب ہیچمدان کی تقریر سے اوپر ہوچکا پس فیصلہ شد۔ قولہ میرا مطلب وہ نہیں ہے جو آپ سمجھے ہیں الخ۔اقول آپ کی خاطر سے ہم نے یہ بھی تسلیم کیا کہ آپ کا مطلب صرف اس قدر ہی ہے کہ یہ معنی جو میں نے اختیار کئے ہیں اس طرف ایک جماعت سلف میں سے گئی ہے مگر یہ تو ارشاد ہو کہ جب آپ کے معنے کی طرف صرف ایک ہی جماعت گئی ہے اور دیگر جماعات صحابہ و تابعین اور ہزارہا مفسرین محققین دوسرے معنوں کی طرف گئے ہیں اور ان معنوں کو بہ براہین مبرہن کیا ہے اور آپ کے معنوں کو مرجوح طور پر بیان کرتے ہیں تو کیا آپ کے اختیار کر لینے سے ایک معنے مرجوح کو وہ معنے قطعی الدلالت ہوسکتے ہیں جو آپ کے غیر پرحجت قطعی ہوسکیں ایسے معنی مرجوح کو اختیار کر کر اپنے غیر پر حجت قطعی گرداننا یہ تو صریح ایک تحکم ہے۔قولہ۔ میری ادلہ کا قوی ہونا الخ۔ اقول ان ادلّہ کا اَوْھَنُ مِنْ بَیْتِ الْعَنْکَبُوْت ہونا ثابت ہوچکا۔ پس یہ آپ کا فرمانا بجائے خود نہیں ہے۔ قولہ آپ نے نون ثقیلہ کے بارہ الخ۔ اقول آیات محکمات جو نون ثقیلہ کے بارہ میں لکھی گئی ہیں معہ حوالہ تفاسیر کے وہ قیامت تک قائم رہیں گی اور جو کوئی ان کا مقابلہ کرے گا وہ ھَبَاءً مَّنْثُوْرًا ہوجاوے گا۔ قال اللّٰہ تعالٰی ۱ قولہ جب یہ امر ثابت ہوگیا الخ اقولیہ امر ثابت نہیں ہوا کہ نون تاکید جو معہ لام تاکید کے مضارع میں داخل ہوالتزاماً وہ خالص زمانہ استقبال کیلئے کردیتا ہے تو پھر تعمیم کیونکر قائم نہ رہے گی۔ قولہ آپ نے ان معنے کی تقریر میں جو میرے نزدیک متعین ہیں تھوڑی سی خطا کی ہے الخ اقول یہ معنی غیر صحیح ہیں کیونکہ اس صورت میں ایک ایسے لفظ کی تخصیص جس میں عموم در عموم بلا وجود مخصص کے کرنی پڑتی ہے اول تو لفظ اہل کتاب کا ایک ایسا عام لفظ ہے جو ہر زمانہ کے اہل کتاب کو شامل ہے جو اہل کتاب کہ اس بات کے قائل تھے کہ ۲ اور جو مصداق ہیں اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ۳ ان سے لے کر آنحضرت صلعم کے وقت کے اہل کتاب اور جو قیامت تک موجود ہوں گے سب کو شامل ہے ایک عموم تو یہ ہوا اور دوسرا عموم یہ ہے کہ من اہل الکتاب ترکیب نحوی میں صفت واقع ہوا ہے اَحَدٌ مقرر کی پھر اَحَدٌجونکرہ محضہ ہے خبر نفی میں واقع ہوا ہے جو مفید استغراق ہے ارشاد الفحول میں لکھا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے۔ النکرۃ فی النفی تعم سواء دخل حرف النفی علی فعل نحومارأیت رجلا اوعلی الاسم نحو لارجل فی الدار ولولم یکن لنفی العموم لماکان قولنا لا الٰہ الّا اللّٰہ نفیا لجمیع الآلھۃ سوی اللّٰہ سبحٰنہ فتقرر ان المنفیۃ